اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 83
باغیوں کے منصوبہ کی اصلیت ان لوگوں پر نہ تو اثر ہوسکتا تھا نہ ہو مگر آنکھوں والوں کے لئے حضرت عثمان کا جواب شرم و حیا کی صفات حسنہ سے ایسا متصف ہے کہ اس سے ان مفسدوں کی بے حیائی اور وقاحت اور بھی زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے جب کہ وہ مفسد ایک جھوٹا خط بنا کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ پر فریب اور دھو کے کا الزام لگاتے ہیں اور جب کہ حضرت علی اور محمد بن مسلمہ واقعات سے نتیجہ نکال کر ان لوگوں پر صاف صاف دھو کے کا الزام لگاتے ہیں۔خود حضرت عثمان" جن پر الزام لگایا گیا ہے اور جن کے خلاف یہ منصوبہ کھڑا کیا گیا ہے اپنے آپ سے تو الزام کو دفع کرتے ہیں مگر یہ نہیں فرماتے کہ تم نے یہ خط بنایا ہے بلکہ ان کی غلطی پر بھی پردہ ڈالتے ہیں اور صرف اسی قدر فرماتے ہیں کہ تم جانتے ہو کہ خط خط سے مل جاتا ہے اور انگوٹھی کی نقل بنائی جاسکتی ہے اور اونٹ بھی چرا یا جاسکتا ہے۔بعض لوگ جو حضرت عثمان کو بھی اس الزام سے بری سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کی نسبت بھی حسن ظنی سے کام لینا چاہتے ہیں خیال کرتے ہیں کہ یہ خط مروان نے لکھ کر بطور خود بھیج دیا ہوگا۔مگر میرے نزدیک یہ خیال بالکل غلط ہے واقعات صاف بتاتے ہیں کہ یہ خط انہی مفسدوں نے بنایا ہے نہ کہ مروان یا کسی اور شخص نے اور یہ خیال کہ اگر انہوں نے بنایا ہوا تھا تو حضرت عثمان کا غلام اور صدقہ کا اونٹ ان کے ہاتھ کہاں سے آیا اور حضرت عثمان کے کاتب کا خط انہوں نے کس طرح بنالیا اور حضرت عثمان کی انگوٹھی کی مہر اس پر کیونکر لگا دی ایک غلط خیال ہے۔کیونکہ ہمارے پاس اس کی کافی وجوہ موجود ہیں کہ یہ خط انہیں لوگوں نے بنایا تھا۔گو واقعات سے ایسا معلوم ہوتا ہے اور یہی قرین قیاس ہے کہ یہ 83