اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 82

دیا کہ یہ صرف ایک فریب ہے جو تم نے کیا ہے۔حضرت عثمان کا باغیوں کے لئے الزام سے بریت ثابت کرنا گو صحابہ نے ان کی اس بات کو عقلاً رد کر دیا مگر ان لوگوں کی دلیری اب حد سے بڑھ گئی تھی۔باوجود اس ذلت کے جو ان کو پہنچی تھی۔انہوں نے حضرت عثمان کے سامنے اس معاملہ کو پیش کیا اور آپ سے اس کا جواب مانگا۔اس وقت بہت سے اکابر صحابہ بھی آپ کی مجلس میں تشریف رکھتے تھے۔آپ نے ان کو جواب دیا کہ شریعت اسلامیہ کے مطابق کسی امر کے فیصلہ کے دو ہی طریق ہیں۔یا تو یہ کہ مدعی اپنے دعوی کی تائید میں دو گواہ پیش کرے یا یہ کہ مدعی علیہ کو قسم دی جائے۔پس تم پر فرض ہے کہ تم دو گواہ اپنے دعویٰ کی تائید میں پیش کرو ورنہ میں اس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا اور کوئی معبود نہیں کہ نہ میں نے یہ خط لکھا ہے نہ میرے مشورہ سے یہ خط لکھا گیا اور نہ ہی لکھوایا ہے نہ مجھے علم ہے کہ یہ خط کس نے لکھا ہے۔پھر فرمایا کہ تم لوگ جانتے ہو کہ کبھی خط جھوٹے بھی بنا لئے جاتے ہیں اور انگوٹھیوں جیسی اور انگوٹھیاں بنائی جاسکتی ہیں۔جب صحابہ نے آپ کا یہ جواب سنا تو انہوں نے حضرت عثمان کی تصدیق کی اور آپ کو اس الزام سے بری قرار دیا۔مگر ان لوگوں پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا اور ہوتا بھی کیونکر۔انہوں نے تو خود وہ خط بنایا تھا۔سوتے ہوئے آدمی کو تو آدمی جگا سکتا ہے جو جاگتا ہو اور ظاہر کرے کہ سو رہا ہے اسے کون جگائے۔ان لوگوں کے سردار تو خوب سمجھتے تھے کہ یہ ہمارا اپنا فریب ہے۔وہ ان جوابات کی صحت یا معقولیت پر کب غور کر سکتے تھے اور ان کے اتباع ان کے غلام بن چکے تھے جو کچھ وہ کہتے وہ سنتے تھے اور جو کچھ بتاتے تھے اسے تسلیم کرتے تھے۔82 22