اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 81
ہمارے بعض آدمیوں نے جب اسے دیکھا تو انہیں شک ہوا اور انہوں نے اس کو جا پکڑا۔جب اس سے دریافت کیا گیا کہ کیا تیرے پاس کوئی خط ہے تو اس نے انکار کیا اور جب اس سے دریافت کیا گیا کہ تو کس کام کو جاتا ہے تو اس نے کہا مجھے علم نہیں۔اس پر ان لوگوں کو اور زیادہ شک ہوا۔آخر اس کی تلاشی لی گئی اور اس کے پاس سے ایک خط نکلا جو حضرت عثمان کا لکھا ہوا تھا اور اس میں والی مصر کو ہدایت کی گئی تھی کہ جس وقت مفسد مصر واپس لوٹیں۔ان میں سے فلاں فلاں کو قتل کر دینا اور فلاں فلاں کو کوڑے اور ان کے سر اور داڑھیاں منڈوا دینا اور جو خط ان کی معرفت تمہارے معزول کئے جانے کے متعلق لکھا ہے اس کو باطل سمجھنا۔یہ خط جب ہم نے دیکھا تو ہمیں سخت حیرت ہوئی اور ہم لوگ فوراً واپس کو ٹے۔حضرت علی نے یہ بات سن کر فوراً ان سے کہا کہ یہ بات تو مدینہ میں بنائی گئی ہے۔کیونکہ اے اہل کوفہ اور اے اہل بصرہ ! تم لوگوں کو کیونکر معلوم ہوا کہ اہل مصر نے کوئی ایسا خط پکڑا ہے۔حالانکہ تم ایک دوسرے سے کئی منزلوں کے فاصلے پر تھے۔اور پھر یہ کیونکر ہوا کہ تم لوگ اس قدر جلد واپس بھی آگئے۔اس اعتراض کا جواب نہ وہ لوگ دے سکتے تھے اور نہ اس کا کوئی جواب تھا۔پس انہوں نے یہی جواب دیا کہ جو مرضی آئے کہو اور جو چاہو ہماری نسبت خیال کرو۔ہم اس آدمی کی خلافت کو پسند نہیں کرتے۔اپنے عہدے سے دست بردار ہو جائے۔محمد بن مسلمہ جو اکابر صحابہ میں سے تھے اور جماعت انصار میں سے تھے کعب بن اشرف جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اور اسلام کا سخت دشمن تھا اور یہود میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا جب اس کی شرارتیں حد سے بڑھ گئیں اور مسلمانوں کی تکلیف کی کوئی حد نہ رہی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے ماتحت انہوں نے اس کو قتل کر کے اسلام کی ایک بہت بڑی خدمت کی تھی انہوں نے جب یہ واقعہ سنا تو یہی جرح کی اور صاف کہہ ا 81