اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 80

نے بجائے ان کی نصیحت سے فائدہ اٹھانے کے ان کو ڈرایا اور دھمکایا اور صاف کہہ دیا کہ اگر وہ خاموش نہ رہیں گے تو ان کے لئے اچھا نہیں ہوگا۔اور یہ لوگ ان سے بُری طرح پیش آویں گے۔باغیوں کا مدینہ پر تسلط قائم کرنا اب گویا مدینہ دارالخلافت نہیں رہا تھا۔خلیفہ وقت کی حکومت کو موقوف کر دیا گیا تھا اور چند مفسد اپنی مرضی کے مطابق جو چاہتے تھے کرتے تھے۔اصحاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیا اور دیگر اہل مدینہ کیا سب کو اپنی عزتوں کا بچانا مشکل ہو گیا تھا۔اور بعض لوگوں نے تو اس فتنہ کو دیکھ کر اپنے گھروں سے نکلنا بند کر دیا تھا۔رات دن گھروں میں بیٹھے رہتے تھے اور اس پر انگشت بدندان تھے۔(طبری جلد صفحہ ۹۶۲ مطبوعہ بیروت) اکابر صحابہؓ کا باغیوں سے واپسی کی وجہ دریافت کرنا چونکہ یہ لوگ پچھلی دفعہ اپنی تسلی کا اظہار کر کے گئے تھے اور آئندہ کے لئے ان کو کوئی شکایت باقی نہ تھی صحابہ حیرت میں تھے کہ آخر ان کے لوٹنے کا باعث کیا ہے۔دوسرے لوگوں کو تو ان کے سامنے بولنے کی جرات نہ تھی۔چندا کا بر صحابہ جن کے نام کی یہ لوگ پناہ لیتے تھے اور جن سے محبت کا دعویٰ کرتے تھے انہوں نے ان سے دریافت کیا کہ آخر تمہارے اس لوٹنے کی وجہ کیا ہے۔چنانچہ حضرت علی، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر نے ان لوگوں سے ان کے واپس آنے کی وجہ دریافت کی۔سب نے بالا تفاق یہی جواب دیا کہ ہم تسلی اور تشفی سے اپنے گھروں کو واپس جا رہے تھے کہ راستہ میں ایک شخص کو دیکھا کہ صدقہ کے ایک اونٹ پر سوار ہے اور کبھی ہمارے سامنے آتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔80