اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 77 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 77

سکتی۔اگر راوی جھوٹ سے کام نہ بھی لیں تب بھی ان کے خیالات کا رنگ ضرور چڑھ جاتا ہے۔اور پھر تاریخ کے راویوں کے حالات ایسے ثابت شدہ نہیں ہیں جیسے کہ احادیث کے رواۃ کے۔اور گومؤرخین نے بہت احتیاط سے کام لیا ہے پھر بھی حدیث کی طرح اپنی روایت کو روز روشن کی طرح ثابت نہیں کر سکتے۔پس بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔تاریخ کی تصیح کا زریں اصل لیکن صحیح حالات معلوم کرنا ناممکن بھی نہیں کیونکہ خدا تعالیٰ نے ایسے راستے کھلے رکھے ہیں جن سے صحیح واقعات کو خوب عمدگی سے معلوم کیا جا سکتا ہے۔اور ایسے راوی بھی موجود ہیں جو بالکل بے تعلق ہونے کی وجہ سے واقعات کو کما حقہ بیان کرتے ہیں۔اور تاریخ کی تصیح کا یہ زریں اصل ہے کہ واقعات عالم ایک زنجیر کی طرح ہیں۔کسی منفر د واقع کی صحت معلوم کرنے کے لئے اسے زنجیر میں پروکر دیکھنا چاہئے کہ وہ کڑی ٹھیک اپنی جگہ پر پروئی بھی جاتی ہے کہ نہیں۔غلط اور صیح واقعات میں تمیز کرنے کے لئے یہ ایک نہایت ہی کارآمد مددگار ہے۔غرض اس زمانہ کے صحیح واقعات معلوم کرنے کے لئے احتیاط کی ضرورت ہے اور جرح و تعدیل کی حاجت ہے۔سلسلہ واقعات کو مدنظر رکھنے کے بغیر کسی زمانہ کی تاریخ بھی صحیح طور پر معلوم نہیں ہوسکتی مگر اس زمانہ کی تاریخ تو خصوصاً معلوم نہیں ہوسکتی۔اور یوروپین مصنفین نے اسی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر اس زمانہ کی تاریخ کو ایسا بگاڑا ہے کہ ایک مسلمان کا دل اگر وہ غیرت رکھتا ہو ان واقعات کو پڑھ کر جلتا ہے اور بہت سے کمزور ایمان کے آدمی تو اسلام سے بیزار ہو جاتے ہیں۔افسوس یہ ہے کہ خود بعض مسلمان مؤرخین نے 77