اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 76
محمد بن ابی بکر کا والی مصر مقرر ہونا جب یہ حال ان لوگوں نے دیکھا اور اس طرف سے بالکل مایوس ہو گئے تو آخر یہ تدبیر کی کہ اپنے فعل پر ندامت کا اظہار کیا اور صرف یہ درخواست کی کہ بعض والی بدل دیئے جائیں۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے کمال شفقت اور مہر بانی سے ان کی اس درخواست کو قبول کر لیا اور ان لوگوں کی درخواست کے مطابق مصر کے والی عبد اللہ بن ابی سرح کو بدل دیا۔اور ان کی جگہ محمد بن ابی بکر کو والی مصر مقرر کر دیا۔اس پر یہ لوگ بظاہر خوش ہو کر واپس چلے گئے اور اہل مدینہ خوش ہو گئے کہ خدا تعالیٰ نے اسلام کو ایک فساد عظیم سے بچالیا۔مگر جو کچھ انہوں نے سمجھا وہ درست نہ تھا کیونکہ ان لوگوں کے ارادے اور ہی تھے اور ان کا کوئی کام شرارت اور فساد سے خالی نہ تھا۔اختلاف روایات کی حقیقت یا درکھنا چاہئے کہ یہی وقت ہے جب سے روایات میں نہایت اختلاف شروع ہو جاتا ہے۔اور جو واقعات میں نے بیان کئے ہیں ان کو مختلف راویوں نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے حتی کہ حق بالکل چھپ گیا ہے اور بہت سے لوگوں کو دھوکا لگ گیا ہے۔اور وہ اس تمام کا روائی میں یا صحابہ کو شریک سمجھنے لگے ہیں یا کم سے کم ان کو مفسدوں سے دلی ہمدردی رکھنے والا خیال کرتے ہیں۔مگر یہ بات درست نہیں۔اس زمانہ کی تاریخ کے متعلق بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس زمانہ کے بعد کوئی زمانہ ایسا نہیں آیا جو ایک یا دوسرے فریق سے ہمدردی رکھنے والوں سے خالی ہو۔اور یہ بات تاریخ کے لئے نہایت مضر ہوتی ہے۔کیونکہ جب سخت عداوت یا نا واجب محبت کا دخل ہو روایت کبھی بعینہ نہیں پہنچ 76