اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 3 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 3

نوعیت میں بہت سی شقوں پر حاوی ہے۔پس اس کے انصرام کے لئے ان خاص تاریخی مضامین کا جو زمانہ خلافت سے متعلق ہیں علم رکھنا میرے لئے ایک نہایت ضروری امر ہے اور اس لئے باوجود کم فرصتی کے مجھے اس زمانہ کی تاریخ کوزیر مطالعہ رکھنا پڑتا ہے۔اور گو ہمارا اصل کام مذہب کی تحقیق و تدقیق ہے مگر اس مطالعہ کے باعث ابتدائے اسلام کی تاریخ کے بعض ایسے پوشیدہ امر مجھ پر خدا تعالیٰ کے فضل سے ظاہر ہوئے ہیں جن سے اس زمانہ کے اکثر لوگ ناواقف ہیں۔اور اس ناواقفیت کے باعث بعض مسلمان تو اپنے مذہب سے بیزار ہورہے ہیں اور ان کو اپنا ماضی ایسا بھیا نک نظر آرہا ہے کہ اس کی موجودگی میں وہ کسی شاندار مستقبل کی امید نہیں رکھ سکتے۔مگر ان کی یہ مایوسی غلط اور ان کے ایسے خیالات نا درست ہیں اور صرف اس امر کا نتیجہ ہیں کہ ان کو صحیح اسلامی تاریخ کا علم نہیں ورنہ اسلام کا ماضی ایسا شاندار اور بے عیب ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ سب کے سب ایسے اعلیٰ درجہ کے با اخلاق لوگ ہیں کہ ان کی نظیر دنیا کی کسی قوم میں نہیں ملتی خواہ وہ کسی نبی کے صحبت یافتہ کیوں نہ ہوں۔اور صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحبت یافتہ لوگ ہی ہیں جن کی نسبت کہا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اپنے استاد اور آقا کے نقش قدم پر چل کر ایسی روحانیت پیدا کر لی تھی کہ سیاسیات کی خطرناک الجھن میں پڑ کر بھی انہوں نے تقویٰ اور دیانت کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔اور سلطنت کے بار کے نیچے بھی ان کی کمر ایسی ہی ایستادہ رہی جیسی کہ اس وقت جب ” قوت لایموت“ کے وہ محتاج تھے اور ان کا فرش مسجد نبوی کی بے فرش زمین تھی اور ان کا تکیہ ان کا اپنا ہاتھ ، ان کا شغل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام مبارک سننا تھا اور ان کی تفریح خدائے واحد کی عبادت تھی۔3