اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 59 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 59

سکے مالک الاشتر منزلوں پر منزلیں مارتا ہؤا کوفہ پہنچا خالی ہاتھ شہر میں گھسنا اس نے اپنی عزت کے خلاف سمجھا۔یہ جزیرہ سے آنے والا شخص جو اپنے ساتھیوں سے ملنے کے لئے دو دومنزلوں کی ایک منزل کرتا چلا آیا تھا۔اپنے مدینہ سے آنے کا اعلان کرنے لگا اور لوگوں کو جوش دلانے کے لئے کہنے لگا کہ میں ابھی سعید بن العاص سے جدا ہو اہوں۔ان کے ساتھ ایک منزل ہم سفر رہا ہوں۔وہ علی الاعلان کہتا ہے کہ میں کوفہ کی عورتوں کی عصمتوں کو خراب کروں گا اور کہتا ہے کہ کوفہ کی جائیداد میں قریش کا مال ہیں۔اور یہ شعر فخر یہ پڑھتا ہے۔وَيْلٌ لِأَشْرَافِ النِّسَاعِمِنِّي صَمَحْمَحٌ كَأَنَّنِيْ مِنْ جِنِّ طبری جلد ۶ صفحه ۲۹۲۹ مطبوعہ بیروت) شریف عورتیں میرے سبب سے مصیبت میں مبتلاء ہوں گی۔میں ایک ایسا مضبوط آدمی ہوں گویا جنات میں سے ہوں اس کی ان باتوں سے عامتہ الناس کی عقل ماری گئی۔اور انہوں نے اس کی باتوں پر یقین کر لیا اور آنا فانا ایک جوش پھیل گیا۔عقل مندوں اور داناؤں نے بہت سمجھایا کہ یہ ایک فریب ہے اس فریب میں تم نہ آؤ۔مگر عوام کے جوش کو کون روکے ان کی بات ہی کوئی نہ سنتا تھا۔ایک آدمی نے کھڑے ہو کر اعلان کیا کہ جو چاہتا ہے کہ سعید بن العاص والی کوفہ کی واپسی اور کسی والی کے تقرر کا مطالبہ کرے۔اسے چاہئے که فوراً یزید بن قیس کے ہمراہ ہو جائے اس اعلان پر لوگ دوڑ پڑے اور مسجد میں سوائے داناؤں ،شریف آدمیوں اور رؤساء کے اور کوئی نہ رہا۔عمر بن الجرید ، سعید کی غیر حاضری میں ان کے قائمقام تھے۔انہوں نے جو لوگ باقی رہ گئے تھے ان میں وعظ کہنا شروع کیا کہ 59