اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 52

بے وارثوں پر ظلم و تعدی کرنے نہ دیتے تھے چنانچہ اس امر کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ کوفہ میں انہی فساد چاہنے والوں کی ایک مجلس بیٹھی اور اس میں افساد امر المسلمین پر گفتگو ہوئی تو سب لوگوں نے بالا تفاق یہ رائے دی لَا وَ اللَّهِ لَا يَرْفَعُ رَأْسٌ مَادَامَ عُثْمَانُ عَلَى النَّاسِ یعنی کوئی شخص اس وقت تک سر نہیں اٹھا سکتا جب تک کہ عثمان کی حکومت ہے۔عثمان ہی کا ایک وجود تھا جو سرکشی سے باز رکھے ہوئے تھے۔اس کا درمیان سے ہٹانا آزادی سے اپنی مرادیں پوری کرنے کے لئے ضروری تھا۔میں نے بتایا تھا کہ عمار بن یا سرجن کو مصر کی طرف روانہ کیا گیا تھا وہ واپس نہیں آئے۔ان کی طرف سے خبر آنے میں اس قدر دیر ہوئی کہ اہل مدینہ نے خیال کیا کہ کہیں مارے گئے ہیں۔مگر اصل بات یہ تھی کہ وہ اپنی سادگی اور سیاست سے ناواقفیت کی وجہ سے ان مفسدوں کے پنجہ میں پھنس گئے تھے جو عبد اللہ بن سبا کے شاگر د تھے۔مصر میں چونکہ خود عبد اللہ بن سبا موجود تھا اور وہ اس بات سے غافل نہ تھا کہ اگر اس تحقیقاتی وفد نے تمام ملک میں امن و امان کا فیصلہ دیا تو تمام لوگ ہمارے مخالف ہو جاویں گے اس وفد کے بھیجے جانے کا فیصلہ ایسا اچانک ہوا تھا کہ دوسرے علاقوں میں وہ کوئی انتظام نہیں کر سکا تھا۔مگر مصر کا انتظام اس کے لئے آسان تھا جو نہ عمار بن یاسر مصر میں داخل ہوئے اس نے ان کا استقبال کیا۔اور والی مصر کی برائیاں اور مظالم بیان کرنے شروع کئے۔وہ اس کے لسانی سحر کے اثر سے محفوظ نہ رہ سکے۔اور بجائے اس کے کہ ایک عام بے لوث تحقیق کرتے۔والی مصر کے پاس گئے ہی نہیں اور نہ عام تحقیق کی بلکہ اسی مفسد گروہ کے ساتھ چلے گئے اور انہی کے ساتھ مل کر اعتراض کرنے شروع کر دیئے۔52 52