اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 32
کہیں چلا جاؤں کیونکہ مدینہ اب میرے مناسب حال نہیں۔حضرت عثمان نے کہا کہ کیا آپ اس گھر کو چھوڑ کر اس گھر سے بدتر گھر کو اختیار کر لیں گے۔انہوں نے کہا کہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ جب مدینہ کی آبادی سلع تک پھیل جاوے تو تم مدینہ میں نہ رہنا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس پر فرمایا کہ آپ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم بجالا وہیں۔اور کچھ اونٹ اور دو غلام دے کر مدینہ سے رخصت کیا اور تاکید کی کہ مدینہ سے کلی طور پر قطع تعلق نہ کریں بلکہ وہاں آتے جاتے رہیں۔جس ہدایت پر ابوذرہ ہمیشہ عمل کرتے رہے۔(طبری جلد نمبر صفحہ ۲۸۶۰ مطبوعہ بیروت) یہ چوتھا فتنہ تھا جو پیدا ہوا اور گواس میں حضرت ابوذر کو ہتھیار بنایا گیا تھا مگر در حقیقت نہ حضرت ابوذر کے خیالات وہ تھے جو مفسدوں نے اختیار کئے اور نہ ان کو ان لوگوں کی شرارتوں کا علم تھا۔حضرت ابوذر تو باوجود اختلاف کے کبھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے پر آمادہ نہ ہوئے اور حکومت کی اطاعت اس طور پر کرتے رہے کہ باوجود اس کے کہ ان کے خاص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو فتنہ اور تکلیف سے بچانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک خاص وقت پر مدینہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا۔انہوں نے بغیر حضرت عثمان کی اجازت کے اس حکم پر عمل کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا اور پھر جب وہ مدینہ سے نکل کر ربذہ میں جا کر مقیم ہوئے اور وہاں کے محصل نے ان کو نماز کا امام بننے کے لئے کہا تو انہوں نے اس سے اس بناء پر انکار کیا کہ تم یہاں کے حاکم ہو اس لئے تم ہی کو امام بننا سزاوار ہے۔جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اطاعت حکام سے ان کو کوئی انحراف نہ تھا اور نہ انار کی کو وہ جائز سمجھتے تھے۔حضرت ابوذر کی سادگی کا اس امر سے خوب پتہ چلتا ہے کہ جب ابن السوداء کے 32