اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 106 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 106

مفسدوں کا حضرت عثمان کے گھر میں پتھر پھینکنا آخر تنگ آکر یہ تدبیر شو بھی کہ جب رات پڑتی اور لوگ سوجاتے۔حضرت عثمان کے گھر میں پتھر پھینکتے۔اور اس طرح اہل خانہ کو اشتعال دلاتے تا کہ جوش میں آکر وہ بھی پتھر پھینکیں تو لوگوں کو کہہ سکیں کہ انہوں نے ہم پر پہلے حملہ کیا ہے اس لئے ہم جواب دینے پر مجبور ہیں۔مگر حضرت عثمان نے اپنے تمام اہل خانہ کو جواب دینے سے روک دیا۔ایک دن موقع پا کر دیوار کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے لوگو! میں تو تمہارے نزدیک تمہارا گناہ گار ہوں مگر دوسرے لوگوں نے کیا قصور کیا ہے۔تم پتھر پھینکتے ہو تو دوسروں کو بھی چوٹ لگنے کا خطرہ ہوتا ہے۔انہوں نے صاف انکار کر دیا کہ ہم نے پتھر نہیں پھینکے۔حضرت عثمان نے فرمایا کہ اگر تم نہیں پھینکتے تو اور کون پھینکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ خدا تعالیٰ پھینکتا ہوگا ( نعوذ باللہ من ذالک) حضرت عثمان نے فرمایا کہ تم لوگ جھوٹ بولتے ہو۔اگر ہم پر پتھر پھینکتا تو اس کا کوئی پتھر خطانہ جاتا۔لیکن تمہارے پھینکے ہوئے پتھر تو ادھر ادھر بھی جا پڑتے ہیں۔یہ فرما کر آپ ان کے سامنے سے ہٹ گئے۔فتنه فروکرنے میں صحابہ کی مساعی جمیلہ گو صحابہ کو اب حضرت عثمان کے پاس جمع ہونے کا موقع نہ دیا جاتا تھا مگر پھر بھی وہ اپنے فرض سے غافل نہ تھے۔مصلحت وقت کے ماتحت انہوں نے دوحصوں میں اپنا کام تقسیم کیا ہوا تھا۔جوسن رسیدہ اور جن کا اخلاقی اثر عوام پر زیادہ تھاوہ تو اپنے اوقات کو لوگوں کے سمجھانے پر صرف کرتے اور جو لوگ ایسا کوئی اثر نہ رکھتے تھے یا نوجوان تھے وہ حضرت عثمان کی حفاظت کی کوشش میں لگے رہتے۔106