اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 99 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 99

ماتحت کام کرتے تھے۔اور اس سے ایک دفعہ پھر یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس فتنہ کی اصل جڑ مصری تھے۔جہاں عبد اللہ بن سبا کام کر رہا تھا۔مسجد نبوی میں غافقی نماز پڑھاتا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ اپنے گھروں میں مقید رہتے یا اس کے پیچھے نماز ادا کرنے پر مجبور تھے۔جب تک ان لوگوں نے حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے کا فیصلہ نہیں کیا تھا تب تک تو لوگوں سے زیادہ تعرض نہیں کرتے تھے مگر محاصرہ کرنے کے ساتھ ہی دوسرے لوگوں پر بھی سختیاں شروع کر دیں۔اب مدینہ دارالامن کی بجائے دارالحرب ہو گیا۔اہل مدینہ کی عزت اور ننگ و ناموس خطرہ میں تھی اور کوئی شخص اسلحہ کے بغیر گھر سے نہیں نکلتا تھا اور جو شخص ان کا مقابلہ کرتا اسے قتل کر دیتے تھے۔حضرت علی کا محاصرہ کرنے والوں کو نصیحت کرنا جب ان لوگوں نے حضرت عثمان کا محاصرہ کر لیا اور پانی تک اندر جانے سے روک دیا تو حضرت عثمان نے اپنے ایک ہمسایہ کے لڑکے کو حضرت علی اور حضرت طلحہ اور حضرت زبیر اور امہات المؤمنین کی طرف بھیجا کہ ان لوگوں نے ہمارا پانی بھی بند کر دیا ہے۔آپ لوگوں سے اگر کچھ ہو سکے تو کوشش کریں اور ہمیں پانی پہنچائیں۔مردوں میں سب سے پہلے حضرت علی آئے اور آپ نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ تم لوگوں نے کیا رویہ اختیار کیا ہے۔تمہارا عمل تو نہ مؤمنوں سے ملتا ہے نہ کافروں سے۔حضرت عثمان کے گھر میں کھانے پینے کی چیزیں مت روکو۔روم اور فارس کے لوگ بھی قید کرتے ہیں تو کھانا کھلاتے ہیں اور پانی پلاتے ہیں۔اور اسلامی طریق کے موافق تو تمہارا یہ فعل کسی طرح جائز 66 99