اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 98
پہنائی ہے میں اسے اتار نہیں سکتا۔اور نہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ چھوڑ سکتا ہوں کہ جس کا جی چاہے دوسرے پر ظلم کرے۔(طبری جلد صفحہ ۱۹۹۰ مطبوعہ بیروت ) اور ان لوگوں کو بھی سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجاویں اور فرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں۔مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کریں گے کہ کاش عثمان کی عمر کا ایک ایک دن ایک ایک سال سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلدی رخصت نہ ہوتا۔کیونکہ میرے بعد سخت خون ریزی ہوگی اور حقوق کا اتلاف ہوگا اور انتظام کچھ کا کچھ بدل جائے گا (چنانچہ بنوامیہ کے زمانہ میں خلافت حکومت سے بدل گئی اور ان مفسدوں کو ایسی سزائیں ملیں کہ سب شرارتیں ان کو بھول گئیں )۔حضرت عثمان کے گھر کا محاصرہ ہیں دن گزرنے کے بعد ان لوگوں کو خیال ہوا کہ اب جلدی ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہے تا ایسا نہ ہو کہ صوبہ جات سے فوجیں آجاویں اور ہمیں اپنے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے۔اس لئے انہوں نے حضرت عثمان کا گھر سے نکلنا بند کر دیا۔اور کھانے پینے کی چیزوں کا اندر جانا بھی روک دیا اور سمجھے کہ شاید اس طرح مجبور ہو کر حضرت عثمان ہمارے مطالبات کو قبول کر لیں گے۔مدینہ کا انتظام اب ان لوگوں کے ہاتھ میں تھا اور تینوں فوجوں نے مل کر مصر کی فوجوں کے سردار غافقی کو اپنا سر دار تسلیم کر لیا تھا۔اس طرح مدینہ کا حاکم گو یا اس وقت غافقی تھا اور کوفہ کی فوج کا سردار اشتر اور بصرہ کی فوج کا سردار حکیم بن جبلہ (وہی ڈاکو جسے اہل ذمہ کے مال لوٹنے پر حضرت عثمان نے بصرہ میں نظر بند کر دینے کا حکم دیا تھا ) دونوں غافقی کے 98