اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 79
اچانک تھی کہ اہل مدینہ مقابلہ کے لئے کوشش نہ کر سکے۔حضرت امام حسن بیان فرماتے ہیں کہ میں مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک شور ہوا اور مدینہ کی گلیوں میں تکبیر کی آواز بلند ہونے لگی ( یہ مسلمانوں کا نعرہ جنگ تھا) ہم سب حیران ہوئے اور دیکھنا شروع کیا کہ اس کا باعث کیا ہے۔میں اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور دیکھنے لگا۔اتنے میں اچانک یہ لوگ مسجد میں گھس آئے اور مسجد پر بھی اور آس پاس کی گلیوں پر بھی قبضہ کر لیا۔ان کے اچانک حملہ کا نتیجہ یہ ہوا کہ صحابہ اور اہل مدینہ کی طاقت منتشر ہوگئی اور وہ ان سے لڑ نہ سکے اور ان کا مقابلہ نہ کر سکے۔کیونکہ شہر کے تمام ناکوں اور مسجد پر انہوں نے قبضہ کر لیا تھا۔اب دو ہی راستے کھلے تھے۔ایک تو یہ کہ باہر سے مدد آوے اور دوسرا یہ کہ اہل مدینہ کسی جگہ پر جمع ہوں اور پھر کسی انتظام کے ماتحت ان سے مقابلہ کریں۔امراوّل کے متعلق ان کو اطمینان تھا کہ حضرت عثمان ایسا نہیں کریں گے کیونکہ ان کا رحم اور ان کی حسن ظنی بہت بڑھی ہوئی تھی اور وہ ان لوگوں کی شرارت کی ہمیشہ تاویل کر لیتے تھے اور امر دوم کے متعلق انہوں نے یہ انتظام کر لیا کہ مدینہ کی گلیوں میں اور اس کے دروازوں پر پہرہ لگا دیا اور حکم دے دیا کہ کسی جگہ اجتماع نہ ہونے پائے۔جہاں کچھ لوگ جمع ہوتے یہ ان کو منتشر کر دیتے۔ہاں یوں آپس میں بولنے چالنے یا اگے ڈ کے کومیل ملاقات سے نہ روکتے تھے۔اہل مدینہ کا باغیوں کو سمجھانا جب اہل مدینہ کی حیرت ذرا کم ہوئی تو ان میں سے بعض نے مسجد کے پاس آکر جہاں ان کا مرکز تھا ان کو سمجھانا شروع کیا۔اور ان کی اس حرکت پر اظہار ناراضگی کیا مگر ان لوگوں 79