اسلام میں اختلافات کا آغاز

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 132

اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 75

کریں گے انہوں نے ان کی بات سن کر اس غیرت دینی سے کام لے کر جو آپ کے رتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور فرمایا کہ سب نیک لوگ جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کے طور پر ذ والمروہ اور ذ وخشب (جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا ) پر ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرما کر ان پر لعنت فرمائی تھی۔(البداية والنهاية جز ۷ صفحه ۱۷۴ مطبوعه بیروت ۱۹۶۶) پس خدا تمہارا بُرا کرے تم واپس چلے جاؤ۔اس پر ان لوگوں نے کہا کہ بہت اچھا ہم واپس چلے جاویں گے اور یہ کہہ کر واپس چلے گئے۔رض اہل کوفہ کا حضرت زبیر کے پاس جانا اہل کوفہ حضرت زبیر کے پاس گئے اور ان سے عرض کیا کہ آپ عہدہ خلافت کے خالی ہونے پر اس عہدہ کو قبول کریں۔انہوں نے بھی ان سے حضرت علی کا سا سلوک کیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور اپنے پاس سے دھتکار دیا اور کہا کہ سب مؤمن جانتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ذوالمروہ اور ذ والخشب اور اعواص پر ڈیرہ لگانے والے لشکر لعنتی ہوں گے۔اہل بصرہ کا حضرت طلحہ کے پاس جانا اسی طرح اہل بصرہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہوں نے بھی ان کو رد کر دیا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی اور آپ کے ان پر لعنت کرنے سے ان کو آگاہ کیا۔(طبری جلد صفحه ۲۹۵۶، ۲۹۵۷ مطبوعہ بیروت ) 75