اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 67
قتل کر دیجئے۔کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ ایک امام موجود ہو اپنی اطاعت یا کسی اور کی اطاعت کے لئے لوگوں کو بلا وے اس پر خدا کی لعنت ہو۔تم ایسے شخص کو قتل کر دو خواہ کوئی ہو۔(مسلم کتاب الامارۃ باب حکم من فرق المسلمين و هو مجتمع ) اور حضرت عمرؓ کا قول یاد دلایا کہ میں تمہارے لئے کسی ایسے شخص کا قتل جائز نہیں سمجھتا جس میں میں شریک نہ ہوں۔یعنی سوائے حکومت کے اشارہ کے کسی شخص کا قتل جائز نہیں۔حضرت عثمان نے صحابہ کا یہ فتویٰ سن کر فرمایا کہ نہیں ہم ان کو معاف کریں گے اور ان کے عذروں کو قبول کریں گے اور اپنی ساری کوشش سے ان کو سمجھا دیں گے اور کسی شخص کی مخالفت نہیں کریں گے۔جب تک وہ کسی حد شرعی کو نہ توڑے یا اظہار کفر نہ کرے۔حضرت عثمان کا اتہامات سے بریت ثابت کرنا پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے کچھ باتیں بیان کی ہیں جو تم کو بھی معلوم ہیں مگر ان کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں کے متعلق مجھ سے بحث کریں تا کہ واپس جا کر کہہ سکیں کہ ہم نے ان امور کے متعلق عثمان سے بحث کی اور وہ ہار گئے۔یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں پوری نماز ادا کی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز قصر کیا کرتے تھے۔(ترمذی ابواب السفرباب التقصير فى السفر ) مگر میں نے صرف منی میں پوری پڑھی ہے۔اور وہ بھی دو وجہ سے۔ایک تو یہ کہ میری وہاں جائید داد تھی اور میں نے وہاں شادی کی ہوئی تھی۔دوسرے یہ کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ چاروں طرف سے لوگ ان دنوں حج کے لئے آئے ہیں۔ان میں سے ناواقف لوگ کہنے لگیں گے کہ خلیفہ تو دو ہی رکعت پڑھتا 67