اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 57
معاویہ شام کی طرف روانہ ہو گئے۔صوبہ جات کے عمال کا اپنے اپنے علاقوں سے غائب رہنا ایسا موقع نہ تھا جسے عبداللہ بن سبا یونہی جانے دیتا۔اس نے فوراً چاروں طرف ڈاک دوڑا دی کہ یہ موقع ہے اس وقت ہمیں کچھ کرنا چاہئے ایک دن مقرر کر کے یکدم اپنے اپنے علاقہ کے امراء پر حملہ کر دیا جائے مگر ابھی مشورے ہی ہو رہے تھے کہ امراء واپس آگئے۔دوسری جگہوں کے سبائی تو مایوس ہو گئے مگر کوفہ کے سبائی ( یعنی عبد اللہ بن سبا کے ساتھی ) جو پہلے بھی عملی فساد میں سب سے آگے قدم رکھنے کے عادی تھے انہوں نے اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔یزید بن قیس نامی ایک شخص نے مسجد کوفہ میں جلسہ کیا اور اعلان کیا کہ اب حضرت عثمان کو خلافت سے علیحدہ کر دینا چاہئے۔قعقاع بن عمرو جو اس جگہ کی چھاؤنی کے افسر تھے انہوں نے سنا تو آکر اسے گرفتار کرنا چاہا۔وہ ان کے سامنے عذر کرنے لگا کہ میں تو اطاعت سے باہر نہیں ہوں۔ہم لوگ تو اس لئے جمع ہوئے تھے کہ سعید بن العاص کے متعلق جلسہ کر کے درخواست کریں کہ اس کو یہاں سے بلوایا جائے اور کوئی اور افسر مقرر کیا جاوے۔انہوں نے کہا کہ اس کے لئے جلسوں کی ضرورت نہیں۔اپنی شکایات لکھ کر حضرت عثمان کی طرف بھیج دو۔وہ کسی اور کو والی مقرر کر کے بھیج دیں گے۔اس میں مشکل کون سی ہے۔یہ بات انہوں نے اس لئے کی کہ زمانہ خلفاء میں لوگوں کے آرام کے خیال سے جب والیوں کے خلاف کوئی تکلیف ہوتی تھی تو اکثر ان کو بدل دیا جاتا تھا۔قعقاع کا یہ جواب سن کر یہ لوگ بظاہر منتشر ہو گئے مگر خفیہ طور پر منصوبہ کرتے رہے۔آخر یزید بن قیس نے جو اس وقت کو فہ میں سبائیوں کا رئیس تھا ایک آدمی کو خط دے کر حمص کی طرف روانہ کیا اور کہا کہ ان 57