اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 25
ایک منفرد واقعہ ہے اور غالباً اس شخص کے سوا مدینہ میں جو مرکز اسلام تھا کوئی ایسا نا واقف آدمی نہ تھا۔مگر دوسرے شہروں میں بعض لوگ معاصی میں ترقی کر رہے تھے۔چنانچہ کوفہ کے حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں نو جوانوں کی ایک جماعت ڈاکہ زنی کے لئے بن گئی تھی۔لکھا ہے کہ ان لوگوں نے ایک دفعہ علی بن حیسمان الخزاعی نامی ایک شخص کے پر ڈا کہ مارنے کی تجویز کی۔اور رات کے وقت اس کے گھر میں نقب لگائی۔اس کو علم ہوگیا اور وہ تلوار لے کر نکل پڑا۔مگر جب بہت سی جماعت دیکھی تو اس نے شور مچایا۔اس پر ان لوگوں نے اس کو کہا کہ چپ کر ہم ایک ضرب مار کر تیرا سارا ڈر نکال دیں گے اور اس کو قتل کر دیا۔اتنے میں ہمسائے ہوشیار ہو گئے اور اردگرد جمع ہو گئے اور ان ڈاکوؤں کو پکڑ لیا۔حضرت ابوشریح رضی اللہ عنہ نے جو صحابی تھے اور اس شخص کے ہمسایہ تھے اور انہوں نے سب حال اپنی دیوار پر سے دیکھا تھا۔انہوں نے شہادت دی کہ واقع میں انہی لوگوں نے علی کو قتل کیا ہے اور اسی طرح ان کے بیٹے نے شہادت دی اور معاملہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف لکھ کر بھیج دیا۔انہوں نے ان سب کو قتل کرنے کا فتویٰ دیا اور ولید بن عتبہ نے جوا ان دنوں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی طرف سے کوفہ کے گورنر تھے ، ان سب ڈاکوؤں کو دروازہ شہر کے باہر میدان میں قتل کروا دیا۔(طبری جلد ۵ صفحه ۲۸۴۰-۸۴۱ مطبوعہ بیروت) بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ معلوم ہوتا ہے لیکن اس زمانے کے حالات کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ معمولی واقعہ نہ تھا۔اسلام کی ترقی کے ساتھ ساتھ جرائم کا سلسلہ بالکل مٹ گیا تھا۔اور لوگ ایسے امن میں تھے کہ کھلے دروازوں سوتے ہوئے بھی خوف نہ کھاتے تھے۔حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عمال کی ڈیوڑھیاں بنانے سے بھی منع کر دیا تھا۔گو اس سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی غرض تو یہ تھی کہ لوگ آسانی سے اپنی شکایات گورنروں 25