اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 116
کیوں اور کس جرم میں اس عہدہ کو چھوڑ دوں جو خدا تعالیٰ نے مجھے دیا ہے۔میں تو اس نمیض کو کبھی نہیں اتاروں گا جو خدا تعالیٰ نے مجھے پہنائی ہے۔وہ شخص یہ جواب سن کر واپس آگیا اور اپنے ساتھیوں سے ان الفاظ میں آکر مخاطب ہوا۔خدا کی قسم ! ہم سخت مصیبت میں پھنس گئے ہیں خدا کی قسم! مسلمانوں کی گرفت سے عثمان کو قتل کرنے کے سوائے ہم بچ نہیں سکتے ( کیونکہ اس صورت میں حکومت تہ و بالا ہو جائے گی اور انتظام بگڑ جاوے گا اور کوئی پوچھنے والا نہ ہوگا ) اور اس کا قتل کرنا کسی طرح جائز نہیں۔اس شخص کے یہ فقرات نہ صرف ان لوگوں کی گھبراہٹ پر دلالت کرتے ہیں بلکہ اس امر پر بھی دلالت کرتے ہیں کہ اس وقت تک بھی حضرت عثمان نے کوئی ایسی بات پیدا نہ ہونے دی تھی جسے یہ لوگ بطور بہانہ استعمال کر سکیں اور ان کے دل محسوس کرتے تھے کہ حضرت عثمان کا قتل کسی صورت میں جائز نہیں۔عبد اللہ بن سلام کا مفسدوں کو نصیحت کرنا جب یہ لوگ حضرت عثمان کے قتل کا منصوبہ کر رہے تھے۔حضرت عبد اللہ بن سلام جو بحالت کفر بھی اپنی قوم میں نہایت معزز تھے اور جن کو یہودا پنا سر دار مانتے تھے اور عالم بے بدل جانتے تھے تشریف لائے اور دروازہ پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کو نصیحت کرنی شروع کی اور حضرت عثمان کے قتل سے ان کو منع فرمایا۔کہ اے قوم! خدا کی تلوار کو اپنے اوپر نہ کھینچو۔خدا کی قسم اگر تم نے تلوار کھینچی تو پھر اسے میان میں کرنے کا موقع نہ ملے گا ہمیشہ مسلمانوں میں لڑائی جھگڑا ہی جاری رہے گا۔عقل کرو آج تم پر حکومت صرف کوڑے کے ساتھ کی جاتی ہے۔(عموماً حدود شرعیہ میں کوڑے کی سزا دی جاتی ہے ) اور اگر تم نے اس 116