اسلام میں اختلافات کا آغاز — Page 101
نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ کو جواب دیا کہ تم جھوٹ بولتی ہو اور آپ کی خچر پر حملہ کر کے اس کے پالان کے رستے کاٹ دیئے اور زین الٹ گئی۔اور قریب تھا کہ حضرت امّم به گر کر ان مفسدوں کے پیروں کے نیچے روندی جا کر شہید ہو جاتیں کہ بعض اہل مدینہ نے حبيبه جو قریب تھے جھپٹ کر آپ کو سنبھالا اور گھر پہنچادیا۔11 ۱۵ طبری جلد ۲ صفحه ۱۰ ۳۰ مطبوعه بیروت) ۶ حضرت اُم حبیبہ کی دینی غیرت کا نمونہ یہ وہ سلوک تھا جو ان لوگوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ سے کیا۔رت ام حبیبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسا اخلاص اور عشق رکھتی تھیں کہ جب پندرہ سولہ سال کی جدائی کے بعد آپ کا باپ جو عرب کا سردار تھا اور مکہ میں ایک بادشاہ کی حیثیت رکھتا تھا ایک خاص سیاسی مشن پر مدینہ آیا اور آپ کے ملنے کیلئے گیا۔تو آپ نے اسکے نیچے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بستر کھینچ لیا۔اس لئے کہ خدا کے رسول کے پاک کپڑے سے ایک مشرک کے نجس جسم کو چھوتے ہوئے دیکھنا آپ کی طاقت برداشت سے باہر تھا۔تعجب ہے کہ حضرت ام حبیبہ نے تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت میں آپ کے کپڑے تک کی حرمت کا خیال رکھا مگر ان مفسدوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیبت میں آپکے حرم محترم کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔نادانوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی جھوٹی ہیں حالانکہ جو کچھ انہوں نے فرمایا تھا وہ درست تھا۔حضرت عثمان بنوامیہ کے یتامی کے ولی تھے اور ان لوگوں کی بڑھتی ہوئی عداوت کو دیکھ کر آپ کا خوف درست تھا کہ یتامی اور بیواؤں کے اموال ضائع نہ ہو جائیں۔جھوٹے وہ تھے جنہوں 101