اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 42 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 42

42 یا ناحق کی شرارت اور خیانت اور فساد انگیزی ہے۔اس کے جواب میں حضرات عیسائی یہ کہتے ہیں کہ آنحضرتعلیم کی لڑائیوں میں بہت ہی نرمی پائی جاتی ہے کہ اسلام لانے پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور شیر خوار بچوں کو قتل نہیں کیا اور نہ عورتوں اور نہ بوڑھوں کو اور نہ فقیروں کو اور مسافروں کومارا اور نہ عیسائیوں اور یہودیوں کے گر جاؤں کو مسمار کیا۔لیکن اسرائیلی نبیوں نے ان سب باتوں کو کیا۔یہاں تک کہ تین لاکھ سے بھی کچھ زیادہ شیر خوار بچے قتل کئے گئے۔گویا حضرات پادریوں کی نظر میں اس نرمی کی وجہ سے اسلام کی لڑائیاں قابل اعتراض ٹھہریں کہ ان میں وہ پختی نہیں جو حضرت موسیٰ اور دوسرے اسرئیلی نبیوں کی لڑائیوں میں تھی۔اگر اس درجہ کی سختی پر یہ لڑائیاں بھی ہوتیں تو قبول کر لیتے کہ در حقیقت یہ بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔اب ہر یک عقل مند کے سوچنے کے لائق ہے کہ کیا یہ جواب ایمانداری کا جواب ہے۔حالانکہ آپ ہی کہتے ہیں کہ خدا رحیم ہے اور اس کی سزا رحم سے خالی نہیں۔پھر جب موسیٰ کی لڑائیاں باوجود اس سختی کے قبول کی گئیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے لڑیں تو کیوں اور کیا وجہ کہ یہ لڑائیاں جو ابھی رحم کی خوشبو ساتھ رکھتی ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوئیں۔اور ایسے لوگ کہ ان باتوں کو بھی خدا تعالیٰ کے احکام سمجھتے ہیں کہ شیر خوار بچے ان کی ماؤں کے سامنے ٹکڑے ٹکڑے کئے جائیں اور ماؤں کو ان کے بچوں کے سامنے بیرحمی سے مارا جاوے وہ کیوں ان لڑائیوں کو خدا تعالیٰ کی طرف سے نہ سمجھیں جن میں یہ شرط ہے کہ پہلے مظلوم ہو کر پھر ظالم کا مقابلہ کرو۔منہ حاشیه صفحه ۱۵۰ تا ۱۵۴ مجموعه اشتہارات جلد دوم) 66 اس کے بعد حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اور اشتہار بھی شائع فرمایا تا حکومت اس پر غور کرتے ہوئے آئے دن مذہبی دل آزاریوں کی بنا پر جو فضاء مکدر ہوتی ہے اسے روکا جاسکے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا