اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 350 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 350

350 چنانچہ شکا گوٹریوں نے 10 مارچ1907ء کولکھا۔ڈوئی کل صبح 7 بجکر 40 منٹ پر شیلو ہاؤس میں مر گیا۔اس وقت اس کے خاندان کا کوئی فرد بھی موجود نہ تھا“ ڈوئی کے مرنے کے چند گھنٹے بعد ہی اس کی آراستہ و پیراستہ اقامت گاہ اور اس کے سارے سامان پرسرکاری ریسیور مسٹر جان ہارٹلے نے صیحوں کے قرض خواہوں کے نام پر قبضہ کرلیا۔جب ڈوئی کی نعش صندوق میں پڑی تھی اس وقت سرکاری کسٹوڈین مکان کے احاطہ میں جائیداد کی نگرانی کرتارہا۔یه خود مصنوعی پیغمبر کسی اعزاز کے بغیر بالکل کسمپرسی کے عالم میں مر گیا۔اس وقت اس کے پاس نصف درجن سے بھی کم وفادار اور پیر و موجود تھے جن میں باتنخواہ ملازمین منجملہ ایک حبشی کے شامل تھے۔اس کے بستر موت پر کوئی قریبی عزیز نہ آیا اس کی بیوی ،لڑکا جیمل مشی گن کے دوسری طرف والے مکان بین مکدو ہی میں اس عرصہ میں مقیم رہے۔وہ آدمی جس نے دوسروں کو شفا دینے کا پیشہ اختیار کیا وہ خود کو شفا نہ دے سکا۔اس کی غیر مطیع سپرٹ کو اس بیماری کے آگے سر تسلیم خم کرنا پڑا جو اس کو قریب دوسال سے دبوچے ہوئے تھی۔اس کا شفاء دینے کا ایمان ، اس کے فالج ، ڈرا پسی اور دوسری پیچیدہ امراض کے سامنے بالکل بے طاقت ثابت ہوا۔“ ( ناموس رسالت پر حملوں کا دفاع صفحہ 34-35) امریکن اخبار ٹرتھ میکر“ نے اپنی اشاعت 15 جون 1907ء میں ”مرسلین کی جنگ“ کے عنوان سے ادار یہ لکھا کہ۔ڈوئی محمد علیم ) کو مفتریوں کا بادشاہ سمجھتا تھا۔اس نے نہ صرف یہ پیشگوئی کی کہ اسلام صیحوں کے ذریعہ سے تباہ ہو جائے گا بلکہ وہ ہر روز یہ دعا بھی کرتا تھا کہ بلال ( اسلامی