اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 28
28 28 دور حاضر میں مخالفین انبیاء اور ان کی بدگوئیاں جیسا کہ اس مضمون کے شروع ہی میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی ھدایت کے لئے انبیاء کے سلسلہ کو شروع کیا اور یہ سلسلہ ہر قوم ہر ملک اور ہرزمانہ میں جاری رہا۔جب بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نبی مبعوث ہوا کسی نے اس کو مانا اور کسی نے اس کا انکار کیا ایمان لانے والے ہمیشہ ہی اُس نبی اور سابقہ نبیوں کی عزت اور احترام کرتے چلے آئے کیونکہ وہ انہیں بھی سچا مانتے تھے اور اس نئے آنے والے نبی کو بھی سابقہ انبیاء کی پیشگوئیوں پر پورا اترتے ہوئے اور سچامان کر قبول کر لیا۔لیکن وہ لوگ جو نبی کا انکار کرتے ہیں تو عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ انکار کے ساتھ ساتھ وہ لوگ اس نبی سے ہنسی ٹھٹھا اور مذاق بھی کرتے ہیں اس کے لئے تو بین آمیز الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں اور اس پر الزام تراشیاں بھی کرتے ہیں ان تمام باتوں سے مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ ایسی باتوں کے ذریعہ اس نبی اور اس کے ماننے والوں کو ایذاء پہنچائی جائے اور دکھ دیا جائے ان کے غیض و غضب کو بھڑکا یا جائے تا کہ اس کے ذریعہ وہ اپنے مقاصد حاصل کر سکیں اور لوگوں کو اس نبی پر ایمان لانے سے روک سکیں۔اس سلسلہ میں مخالفین انبیاء نے کیسے کیسے حربے استعمال کئے ان کا کچھ ذکر میں شروع میں ہی کر آیا ہوں جس سے مخالفین کی شرارتوں کا بخوبی علم ہوسکتا ہے۔آنحضرت علیم کے بعثت ایسے زمانہ میں ہوئی جب دنیا ایک گھر کی حیثیت اختیار کر چکی تھی آپ کی بعثت کے ساتھ ہی دین کی بھی تکمیل ہوئی اور و تعلیم جسے اللہ تعالی انسان کو دینا چاہتا تھا وہ بھی قرآن کریم کی صورت میں پائے تکمیل کو پہنچی۔اسی بات کا ذکر قرآن کریم میں اس صورت میں ہوا کہ الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَكُمُ