اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 172
172 قرآن کریم کی یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں پر حملہ کرنے والے جب جنگ میں شکست کھا جائیں تو ان سے جزیہ کی شرط پر معاہدہ کر کے انہیں امان دید یا کرو۔تو ایسے لوگ جو جزیہ کی ادائیگی کی شرط پر معاہدہ کرتے ہیں وہ ” ذقی“ کہلاتے ہیں۔امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں جو ساری بحث اٹھائی ہے وہ اس ذمی کے بارے میں ہے کہ جب بھی کوئی ذقی گالی دیگا تو اس کے گالی دینے کی بنا پر وہ معاہدہ جو جزیہ دینے کے شرط کے ساتھ مسلم مملکت میں رہنے کے لئے کیا تھا وہ ٹوٹ جاتا ہے لہذا اسے قتل کر دیا جائے۔امام ابن تیمیہ کی اس بات میں ایک بہت ہی باریک نقطہ ہے جسے سمجھنا نہایت ضروری ہے۔وہ یہ ہے کہ ایک شخص ذمی اس وقت بنتا ہے جب کہ وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے کے نتیجہ میں شکست کھا کر جزیہ کی شرط پر ایک معاہدہ کرتا ہے اور اس میں امن و امان قائم رکھنے کی بھی شرط شامل ہوتی ہے۔اگر ایک شخص کسی کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچا کر ملک میں فتنہ پردازی کرنا چاہے ایسی صورت میں دو گو یا عہد شکنی کرتا ہے۔ایسی صورت میں اس کی شکل یہ بنتی ہے کہ جب کوئی ذمی رسول کریم علیہ کو گالی دیتا ہے تو اس کو قتل کی سزا اس کے گالی دینے کی بنا پر نہیں دی جائے گی بلکہ اس کی معاہدہ شکنی اور فتنہ پردازی کو ہوا دینے کی بنا پر دی جائے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وَالْفِتْنَةُ اكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (البقرة آيت ۲۱۸) یعنی اور فتنہ قتل سے بھی بڑا ہوتا ہے۔اسلامی مملکت میں رہتے ہوئے ذمی کے لئے یہ لازمی ہے کہ وہ کوئی بھی ایسی بات نہیں کرے گا جس سے فتنہ کا اندیشہ ہو۔جب بھی اس کی طرف سے کوئی بھی ایسی بات ہوگی یا معاہدہ کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ شخص ان لوگوں میں شمار ہوگا