اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 128 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 128

128 که حضور ہر شخص کی شن لیتے تھے اور مہر ایک کو اپنی بات کہنے کا موقعہ دیا کرتے تھے۔خوبی ان کی نگاہ میں عیب تھی۔کہتے تھے کی آپ کان کے کچے ہیں، جس کا جی چاہے آپ کے پاس پہنچ جاتا ہے ،جس طرح چاہے آپ کے کان بھرتا ہے۔اور آپ اس کی بات مان لیتے ہیں۔اس الزام کا چرچہ زیادہ تر اس وجہ سے کیا جاتا تھا کہ بچے اہل ایمان منافقین کی سازشوں اور ان کی شرارتوں اور ان کی مخالفانہ گفتگوؤں کا حال نبی صلی ایلیم تک پہنچا دیا کرتے تھے اور اس پر یہ لوگ سیخ پا ہو کر کہتے تھے کہ آپ ہم جیسے شرفاء اور معززین کے خلاف ہر کنگلے اور ہر فقیر کی دی ہوئی خبر پر یقین کر لیتے ہیں۔“ تفہیم القرآن جلد ۲ شائع کرده مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی صفحه ۲۰۹) ان حوالہ جات سے بھی صاف معلوم ہوتا ہے کہ ان آیات میں منافقین کا ذکر ہے جو رسول کریم بالا لیلی کے بارے میں ایسی بیہودہ گوئی کیا کرتے تھے اس کا علم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ی آپ کو دیا جاتا تھا لیکن آپ نے ایسی باتیں کرنے والوں میں سے کسی کو بھی قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔ایک روایت آتی ہے کہ آنحضرت علیم کواللہ تعالیٰ نے ایسے ستر ۷۰ منافقین کے نام بھی بتائے تھے اس کے باوجود کسی ایک منافق کو بھی ان کی ان ایذا رسانیوں کی وجہ قتل کرنے کا حکم نہیں دیا۔اور نہ ہی اس آیت میں کوئی ایسا حکم پایا جاتا ہے۔ہے۔71 ۲۔امام ابن تیمیہ نے اس سلسلہ میں قرآن کریم سے جو دوسری دلیل پیش کی ہے وہ یہ يَحْذَرُ الْمُنْفِقُونَ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمُ سُورَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِي قُلُوبِهِمْ قُلِ اسْتَهْزِءُوا إِنَّ اللهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُونَ وَلَئِن سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ آبِاللهِ وَايْتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُونَ لَا تَعْتَذِرُوا