اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 89 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 89

89 باوجود اس بات کے کہ پادری عمادالدین اور پادری ٹھا کر داس کی کتابیں اور نور افشاں کی پچیس سال کی مسلسل تحریریں سختی میں اس سے کچھ کم نہیں ہیں۔یہ تو سب کچھ ہوا مگر ہمیں تو آیت موصوفہ بالا میں یہ تاکیدی حکم ہے کہ جب ہم ایسی بدزبانی کے کلمات سنیں جس سے ہمارے دلوں کا دکھ پہنچے تو ہم صبر کریں۔اور کچھ شک نہیں کہ جلد تر حکام کو اس طرف توجہ کرنا یہ بھی ایک بے صبری کی قسم ہے اس لئے عقل مند اور دور اندیش مسلمان ہر گز اس طریق کو پسند نہیں کرتے کہ گورنمنٹ عالیہ تک اس بات کو پہنچایا جائے۔ہمیں خدا تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی تعلیم دی ہے کہ دین اسلام میں اکراہ اور جبر نہیں۔جیسا کہ وہ فرماتا ہےلا اکراہ فی الدین(البقرہ ۲۵۷) اور جیسا کہ فرماتا ہے افانت تکرہ الناس ( یونس ۱۰۰) لیکن اس قسم کے حیلے اکراہ اور جبر میں داخل ہیں جس سے اسلام جیسا پاک اور معقول مذہب بدنام ہوتا ہے۔غرض اس بارے میں میں اور میری جماعت اور تمام اہل علم اور صاحب تدبر مسلمانوں میں سے اس بات پر اتفاق رکھتے ہیں کہ کتاب امہات المومنین کی لغو گوئی کی یہ سزا نہیں ہے کہ ہم اپنی گورنمنٹ محسنہ کو دست اندازی کے لئے توجہ دلائیں گوخود دانا گورنمنٹ اپنے قوانین کے لحاظ سے جو چاہے کرے۔مگر ہمارا صرف یہ فرض ہونا چاہئے کہ ہم ایسے ایسے اعتراضات کا کہ جو در حقیقت نہایت نادانی یا دھوکہ دہی کی غرض سے کئے گئے ہیں خوبی اور شائستگی کے ساتھ جواب دیں اور پبلک کو اپنی حقیقت اور اخلاق کی روشنی دکھلائیں۔اسی غرض کی بنا پر یہ میموریل روانہ کیا گیا ہے۔اور تمام جماعت ہماری معر؛ زمسلمانوں کی اسی پر متفق ہے۔۴ مامتی ۱۸۹۸ء الراقم