اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 282
282 کرنے والوں کی سزا قتل نہیں ہے ورنہ آپ عمل یا کسی ایک ہجو کرنے والے کو بھی معاف نہ فرماتے۔واقعہ عبداللہ بن ابن سرح۔اس کے بارے میں تفسیر کبیر میں لکھا ہے کہ فلما كان يوم الفتح امر النبی صلی اللہ علیہ و سلم بقتله فاستجار له عثمان فاجاره رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ثم انہ اسلم و حسن اسلامه» ( تفسیر کبیر جلد ۵ صفحه ۵۲۷) یعنی۔فتح مکہ کے دن آپ نے عبد اللہ بن ابی سرح کے قتل کا حکم دیا۔حضرت عثمان نے اس کو اپنی پناہ میں لے لیا۔اس لئے رسول اللہ علی ایم نے بھی اس کو پناہ دے دی اور معاف کر دیا۔اسی طرح روح المعانی جلد ۴ صفحہ ۴۸۴ میں لکھا ہے کہ كان يكتب لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فازلہ الشیطن فلحق بالكفار فامربه النبی صلی اللہ علیہ وسلم ان يقتل يوم فتح مكة فاستجار له عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ فاجاره النبی صلی اللہ علیہ و سلم“ یعنی۔وہ پہلے کا تب وحی تھا۔پھر شیطان نے اس کو بہکادیا اور وہ کافروں سے جاملا فتح مکہ کے دن آنحضرت علی ایم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔حضرت عثمان نے اس کو اپنی پناہ میں لے لیا۔پھر آنحضرت صلیم نے بھی اس کو پناہ دیدی۔عبد اللہ بن ابن ابی سرح کا جرم یہ بیان کیا جاتا ہے کہ یہ رسول کریم صل اللہ کا کاتب وحی