اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 88
88 کے لئے تھی اور اسی زمانہ میں پوری ہوئی کون ثابت کر سکتا ہے کہ جو اس آیت میں اڈی كثيراً کا لفظ ایک عظیم الشان ایذا بلسانی کو چاہتا ہے وہ کبھی کسی صدی میں اس سے پہلے اسلام نے دیکھی ہے؟ اس صدی میں پہلے عیسائی مذہب کا یہ طریق نہ تھا کہ اسلام پر گندے اور ناپاک حملے کرے بلکہ اکثر ان کی تحریریں اور تالیفیں اپنے مذہب تک ہی محدود تھیں۔قریباً تیرھویں صدی ہجری سے اسلام کی نسبت بدگوئی کا دروازہ کھلا جس کے اول بانی ہمارے ملک میں پادری فنڈر صاحب تھے۔بہر حال اس پیشگوئی میں مسلمانوں کو یہ حکم تھا کہ جب تم دل آزار کلمات سے دکھ دئے جاؤ اور گالیاں سنو تو اس وقت صبر کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہوگا۔سو قر آنی پیشگوئی کے مطابق ضرور تھا کہ ایسا زمانہ بھی آتا کہ ایک مقدس رسول کو جس کی امت سے ایک کثیر حصہ دنیا کا پُر ہے عیسائی قوم جیسے لوگ جن کا تہذیب کا دعویٰ تھا گالیاں دیتے اور اس بزرگ نبی کا نام نعوذ باللہ زانی اور ڈاکو اور چور رکھتے اور دنیا کے سب بدتر وں سے بدتر ٹھہراتے۔بے شک یہ ان لوگوں کے لئے بڑے رنج کی بات ہے جو اس پاک رسول کی راہ میں فدا ہیں اور ایک دانشمند عیسائی بھی احساس کر سکتا ہے کہ جب مثلاً اسی کتاب امہات المومنین میں ہمارے نبی صلیم کو نعوذ باللہ زناکار کے نام سے پکارا گیا اور گندے سے گندے تحقیر کے الفاظ آنجناب کے حق میں استعمال کئے گئے اور پھر عمدہ آہزار کاپی اس کتاب کی محض دلوں کے دکھانے کے لئے عام اور خاص مسلمانوں کو پہنچائی گئی اس سے کس قدر درد ناک زخم عام مسلمانوں کو پہنچے ہونگے اور کیا کچھ ان کے دلوں کی حالت ہوئی ہوگی۔اگر چہ بد گوئی میں یہ کچھ پہلی ہی تحریر نہیں ہے بلکہ ایسی تحریروں کو پادری صاحبوں کی طرف سے کروڑ با تک نوبت پہنچ گئی ہے۔مگر یہ طریق دل دکھانے کا ایک نیا طریق ہے کہ خواہ نخواہ غافل اور بے خبر لوگوں کے گھروں میں یہ کتابیں پہنچائی گئیں۔اور اسی وجہ سے اس کتاب پر بہت شور بھی اٹھا ہے۔