اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 86
86 یہ ایک بڑا نقصان ہوگا کہ اکثر لوگوں کے نزدیک یہ امر مکروہ اور نا مناسب سمجھا جائے گا کہ ہم گورنمنٹ کے ذریعہ سے اپنے انصاف کو پہنچ کر پھر کبھی اس کتاب کار دلکھنا بھی شروع کر دیں۔اور در حالت نہ لکھنے جواب کے اس کے فضول اعتراضات ناواقفوں کی نظر میں فیصلہ ناطق کی طرح سمجھے جائیں گے اور خیال کیا جائے گا کہ ہماری طاقت میں یہی تھا جو ہم نے کرلیا سواس سے ہماری دینی عزت کو اس سے بھی زیادہ ضرر پہنچتا ہے جو مخالف نے گالیوں سے پہنچانا چاہا ہے۔اور ظاہر ہے کہ جس کتاب کو ہم نے عمداً تلف کرایا یا روکا پھر اسی کو مخاطب ٹھہرا کر اپنی کتاب کے ذریعہ سے پھر شائع کرنا نہایت نا معقول اور بیہودہ طریق ہوگا۔اور ہم گورنمنٹ عالیہ کو یقین دلاتے ہیں کہ ہم دردناک دل سے ان تمام گندے اور سخت الفاظ پر صبر کرتے ہیں جو صاحب امہات المومنین نے استعمال کئے ہیں اور ہم اس مؤلف اور اس کے گروہ کو ہر گز کسی قانونی مواخذہ کا نشانہ بنانا نہیں چاہتے کہ یہ امر ان لوگوں سے بہت ہی بعید ہے کہ جو واقعی نوع انسان کی ہمدردی اور سچی اصلاح کے جوش کا دعویٰ رکھتے ہیں۔یہ بات بھی گورنمنٹ عالیہ کی خدمت میں عرض کر دینے کے لائق ہے کہ اگر چہ ہماری جماعت بعض امور میں دوسرے مسلمانوں سے ایک جز وی اختلاف رکھتی ہے مگر اس مسئلہ میں کسی سمجھدار مسلمان کو اختلاف نہیں کہ دینی حمایت کے لئے ہمیں کسی جوش یا اشتعال کی تعلیم نہیں دی گئی بلکہ ہمارے لئے قرآن میں یہ حکم ہے۔وَلَا تُجَادِلُوا أَهْلَ الْكِتَبِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أحْسَنُ (العنکبوت آیت ۴۷) اور دوسری جگہ حکم ہے کہ۔اُدْعُ إلى سَبِيلِ ربك بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ۔(النحل آیت ۱۲۶) اس کے معنی یہی ہیں کہ نیک طور پر اور ایسے طور پر جو مفید ہو عیسائیوں سے مجادلہ کرنا چاہئے اور حکیمانہ طریق اور ایسے ناصحانہ طور کا پابند ہونا چاہئے کہ ان کو فائدہ بخشے۔لیکن یہ طریق کہ ہم گورنمنٹ کی مدد سے یا نعوذ باللہ خود اشتعال