اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 76
76 انسان کو صبر وعمل کی تلقین کرتا ہے۔ایک انسان جب بازار میں ایک مٹی کا برتن ہی خرید نے جائے تو وہ اسے بھی اٹھا کر آگے پیچھے سے اور بجا کھنکا کر دیکھتا ہے کہ کہیں خراب تو نہیں ٹوٹا تو نہیں اور ہم میں سے ہر شخص اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ یہ برتن اگر ہاتھ سے ایک مرتبہ بھی گر گیا تو یہ ٹوٹ جائے گا اور کچھ بھی ہاتھ نہیں آئے گا۔جبکہ دین کے بارے میں ہم میں سے ہر کوئی یہ یقین رکھتا ہے کہ یہ ایسا سودا ہے جس سے انسان نے زندگی بھر فائدہ حاصل کرنا ہے اور مرنے کے بعد بھی اسی کی بنیاد پر اخروی زندگی میں جنت یا دوزخ کا حصول ہوگا۔لیکن کوئی بھی مذہب والا اپنے دین سے ہٹ کر کسی دوسرے کے دین کے بارے میں غور وفکر کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر کوئی دوسرے کے دین پر غور وتد بر کر کے اسے قبول کرلے تو فوراً اس پر کفر کا ارتداد کا فتویٰ لگا دیا جاتا ہے۔کیا یہ جائز ہے ؟ ہر گز نہیں جب قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ کوئی جان کسی دوسری جان کا بوجھ نہیں اٹھائے گی تو پھر ہر شخص اس بات میں قرآن کریم کے حکم کے مطابق آزاد ہے کہ وہ کسی پیغام کو قبول کرے یا نہ کرے۔جب بھی کسی دین کے معاملہ میں بات کی جاتی ہے تو جہاں ایک مذہب کی خوبیاں لوگوں کو بتائی جاتی ہیں تو دیگر مذاہب کی کمیوں پر بھی غور ہونالازمی ہے کہ تا یہ جانچا جائے کہ تمام مذاہب میں خوبیوں سے بھر پور کون سادین ہے جیسا کہ ہم کوئی شے خریدتے وقت ایک کے مقابل دوسری شے میں زیادہ خوبیوں کو تلاش کرتے ہیں پھر زیادہ خوبیوں والی شے خرید کرتے ہیں۔دین کے معاملہ میں ہر مذہب والا اپنے مذہب کی خوبیوں کو بیان کرتے ہوئے دیگر مذاہب پر تنقید کرنے پر آزادی رائے کے نام پر تو اپنے حق کو محفوظ کرتا ہے لیکن اگر دوسرا بھی اس حق کو استعمال کرنا چاہے تو اس کو گستاخی اور توہین کا نام دید یا جاتا ہے۔اسلام ہر شخص کو