اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 381 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 381

381 رسالت انبیاء کے قائم رکھنے کا ایک زبر دست ذریعہ ہے۔کتاب ستیارتھ پرکاش“ کا جواب اس کتاب کا ذکر پہلے بھی گزر چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب براہین احمدیہ کی اشاعت سے قبل آریہ سماج کے بانی سوامی دیانند سرسوتی نے یہ کتاب شائع کی تھی۔اس کتاب میں تمام مذاہب کونشانہ بناتے ہوئے ہندو مذہب کی برتری کو ثابت کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔اسی کتاب کے چودھویں ادھیائے ( حصہ ) میں اسلام، قرآن کریم اور رسول پاک میایم پر شدید حملے کئے گئے تھے۔اس کتاب کی اشاعت پر ایک عرصہ گزر جانے پر بھی کسی کو اس کتاب کا جواب لکھنے کی توفیق حاصل نہیں ہوئی۔یہ توفیق بھی اللہ تعالیٰ نے جماعت احمد یہ تو عطا کی۔اس کتاب کا جواب تیار کرنے کے لئے سنسکرت کا جاننا بہت ضروری تھا۔اس زبان کو سیکھنے کے لئے مولوی ناصرالدین عبد اللہ صاحب بنارس تشریف لے گئے اور وہاں کسی ادارہ سے اس زبان کے سیکھنے کی کوشش کرنے لگے۔چونکہ اس زبان کو سکھانے والے سب ادارے ہندو تھے کوئی بھی تیار نہ ہوا ہر ایک کا یہ مطالبہ تھا کہ پہلے آپ ہندو ہو جائیں تو پھر آپ کو یہ زبان سکھائی جائے گی۔بہت کوشش کے بعد آپ کو ایک ایسے پنڈت ملے جنہوں نے شرط رکھی کہ آپ مجھے عربی سکھائیں گے تو میں تمہیں سنسکرت پڑھا دوں گا۔آپ نے یہ شرط منظور کر لی۔پنڈت صاحب نے تو کچھ عرصہ پڑھنے کے بعد عربی سیکھنی چھوڑ دی لیکن آپ پڑھتے رہے اور دو یا تین سال میں آپ نے کلکتہ یونیورسٹی سے سنسکرت میں ڈگری حاصل کر لی۔آپ نے اپنی تعلیم کے دوران ہی ستیارتھ پر کاش کے چودھویں ادھیائے کا جواب آسمانی پر کاش“ کے نام سے لکھا جس میں ہر اعتراض کا حقیقی اور الزامی جواب دیا گیا تھا۔یہ کتاب آپ نے بنارس سے ہی شائع کروائی اور وہاں کے بڑے بڑے پنڈتوں کے ہاتھوں میں تھما کر تحفظ ناموس رسالت کا