اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 377 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 377

377 تئیں ایک جز بہ اور جوش پیدا ہو گیا اور حکومت کو بڑی کوشش سے امن قائم کرنا پڑا اس پر حکومت نے ”درحمان کا وہ پرچہ ضبط کیا اور اس کے ایڈیٹر اور مضمون نگا پر مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیا۔اسی طرح ”رنگیلا رسول“ کے مصنف راجپال پر بھی مقدمہ چلایا گیا اور اسے زیر دفعہ 153 - الف تعزیرات ہند چھ ماہ قید با مشقت اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ یا چھ ماہ قید مزید کی سزا ہوئی لیکن راجپال نے اس کے خلاف ہائیکورٹ میں اپیل دائر کی اس پر ہائیکورٹ کے جج کنور دلیپ سنگھ نے یہ کہتے ہوئے اسے بری کر دیا کہ میری رائے میں دفعہ 153 - الف اس قدر وسیع معانی کے لئے نہیں بنایا گیا تھا۔میرے خیال میں اس دفعہ کے وضع کرنے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں کو کسی ایسی قوم پر حملہ کرنے سے روکا جائے جو موجود ہو نہ کہ اس سے گزشتہ مذہبی رہنماؤں کے خلاف اعتراضات اور حملوں کو روکنا مقصود تھا۔جہاں تک میرا تعلق ہے میں اس امر پر اظہار افسوس کرتا ہوں کہ ایسی دفعہ کی تعزیرات میں کمی ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یہ مقدمہ 153۔الف کی زد میں آتا ہے اس لئے میں نظر ثانی کو بادل ناخواستہ منظور کرتا ہوں اور مرافعہ گزار کو بری کرتا ہوں۔ہائیکورٹ کے اس فیصلہ پر حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ورتمان کے مضمون نگار کو سز ادلوانے کی پوری کوشش کی اور ساتھ ہی یہ بھی کوشش کی کہ اس دفعہ 153 - الف میں جو کمی ہے اسے دور کیا جائے۔چنانچہ یہ مقدمہ چیف جسٹس نے ایک حج کے سپرد کر دیا۔لیکن حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکومت کو تار کے ذریعہ اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ یہ مقدمہ ایک سے زیادہ ججوں کے سامنے پیش ہونا چاہئے۔تا کہ دفعہ 153۔الف سے متعلق جسٹس دلیپ سنگھ کے فیصلہ کی تحقیق ہو جائے۔چنانچہ حکومت نے اس مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے ڈویژن بینچ کے سپرد کر دیا۔جس نے 16 اگست 1927ء کو فیصلہ سنایا کہ مذہبی پیشواؤں کے