اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 34
34 == اور کیونکر اس عاجز انسان میں اس قادر خدا کی عظمت کا نمونہ دکھائے گا جس کے حکم سے ایک ذرہ بھی زمین و آسمان سے باہر نہیں اور جس کا جلال دکھانے کے لئے سورج چمکتا اور زمین طرح طرح کے پھول نکالتی ہے۔ایسا ہی ایک آریہ کیا وعظ کرے گا۔کیا وہ دانش مندوں کے سامنے یہ کہہ سکتا ہے کہ تمام روحیں اور اس کی قوتیں اور طاقتیں اپنے وجود کی آپ ہی خدا ہیں اور کسی کے سہارے سے ان کا وجود اور بقاء نہیں اور یا یہ کہ سکتا ہے کہ وید کی تعلیم عمدہ ہے کہ خاوند والی عورتیں اولاد کی غرض سے دوسروں سے ہم بستر ہو جایا کریں۔ابھی ہمیں تجربہ ہوا ہے کہ جب ہماری بعض جماعت کے لوگوں نے کسی آریہ یا پنڈت سے نیوگ کی حقیقت بازار میں پوچھی جہاں بہت سے آدمی موجود تھے تو وہ آر یہ یا پنڈت شرمندہ ہوا۔اور چپکے سے کہا آپ اندر چل کر مجھ سے یہ گفتگو کریں۔بازار میں لوگ سن کر ہنسی کرتے ہیں۔اب ظاہر ہے کہ جن لوگوں کا اپنا ہی یہ حال ہے کہ ایسے عقائد اور اعمال کی نسبت اپنا ہی کانشنس اُن کا اُن کے عقیدہ کو دھکے دیتا ہے اور قبول نہیں کرتا تو پھر وہ غیروں کو کیا وعظ کریں گے۔اس لئے مسلمانوں کو نہایت ہی گورنمنٹ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ گورنمنٹ کے اس قانون کا وہی اکیلے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔بیچارے پادری صد با روپیہ خرچ کر کے ایک ہندو کو قابو میں لاتے ہیں اور وہ آخر بعد آزمائش مسلمانوں کی طرف آجاتا ہے اور یا صرف پیٹ کا بندہ ہو کر محض دنیاوی لالچ سے انہی میں گزارہ کرتا ہے۔لیکن ہمیں اپنے دل آزار ہمسائیوں مخالفوں سے ایک اور شکایت ہے۔اگر ہم اس شکایت کے رفع کے لئے اپنی محسن اور مہر بان گورنمنٹ کو اس طرف توجہ نہ دلاویں تو کس کو دلاویں اور وہ یہ ہے کہ ہمارے مذہبی مخالف صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلمہ اور مقبولہ کی رو سے ہر گز ثابت نہیں ہیں بلکہ مخالفوں کی مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں۔اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولی نبی صلیم کی بہتک