اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 339
339 خدالو ہے کی چھری سے اس کا کام تمام کرے گا۔سو ایسا ہی وقوع میں آیا“ ( قادیان کے آریہ اور ہم روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 429) بچھایا۔واضح رہے کہ اس شخص نے رسول اللہ مالی سال کی محنت بے ادبیاں کی ہیں جن کے تصویر سے بھی بدن کانپتا ہے اس کی کتابیں عجیب طور کی تحقیر اور تو بین اور دشنام دہی سے بھری ہوئی 66 ہیں۔کون مسلمان ہے جو ان کتابوں کو سنے اور اس کا دل اور جگر ٹکڑے ٹکڑے نہ ہو۔“ (اشتہار 20 فروری 1893 ء مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 373) اسی طرح ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔کیا لیکھرام نے میرے کسی باپ اور دادا کو قتل کردیا تھا؟ اس نے میری ذات کو کسی قسم کی تکلیف اور ایذاء نہیں دی۔ہاں اس نے رسول کریم علی کی پاک ذات پر وہ گستاخانہ حملے کئے اور وہ بے ادبیاں کیں کہ میرا دل کانپ اٹھا اور میرا بنگر پارہ پارہ ہو گیا۔میں نے اس کی بے ادبیوں اور شوخیوں کوٹکڑے ہوتے ہوئے دل کے ساتھ خدا کے حضور پیش کیا۔اس نے ان شوخیوں اور گستاخیوں کے عوض میں اس کی نسبت مجھے یہ پیشگوئی عطا فرمائی۔“ ( ملفوظات جلد اوّل نیا ایڈیشن صفحہ 377-378) نیز ایک جگہ فرمایا جس نے پیشگوئی کی میعاد میں کوئی تضرع اور خوف ظاہر نہ کیا بلکہ پہلے سے بھی زیادہ گستاخ ہو کر بازاروں اور کوچوں اور شہروں اور دیہات میں تو ہین اسلام کرنے لگا۔تب وہ میعاد کے اندر ہی اپنی اس بد اعمالی کی وجہ سے پکڑا گیا اور وہ زبان اس کی جو گالی اور بدزبانی میں چھری کی طرح چلتی تھی اسی چھری سے اس کا کام تمام کر دیا۔“