اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 301 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 301

301 ابن ہشام نے کہا یہ دونوں آدمی حارث ابن ہشام اور زہیرا بن ابو امیہ بن مغیرہ ہیں۔“ (سیرت النبی کامل ابن ہشام جلد دوم صفحہ ۴۸۷) 71 اس سلسلہ میں ایک روایت امام ابن تیمیہ نے بنا کسی حوالہ کے درج کی ہے جس کو پیر زادہ شفیق الرحمن صاحب نے بھی امام ابن تیمہ کے حوالہ سے درج کیا ہے جس میں ایک خط لکھے جانے کا ذکر ہے اور اس سے یہ استدلال کیا ہے کہ یہ خط اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہجو گوئی کرنے والوں کو قتل کیا جائے لہذا ہجو گوئی کرنے والے کی سزا قتل ہے۔لکھتے ہیں اموی کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ ابن اسحاق نے کہا اور یونس بن بگیر اور بکائی وغیرہ نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ جب رسول کریم صل عالمی طائف سے لوٹ کر مدینہ تشریف لائے تو بجیر بن زہیر نے اپنے بھائی کعب بن زہیر کو لکھا کہ رسول کریم علی سلیم نے مکہ کے چند آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو ہجو گوئی کر کے آپ مسلم کو ایذا دیا کرتے تھے۔یونس اور بکائی کے الفاظ یہ ہیں کہ مکہ میں ایک شخص رسول کریم علی کو جو کہہ کر ایذا دیا کرتا تھا رسول کریم ملی ایم نے اسے قتل کر دیا اور قریش کے شعراء میں سے جو باقی رہ گئے تھے مثلاً ابن الزبعری اور ہبیرہ بن ابی وہب ، وہ ادھر ادھر بھاگ گئے۔اگر تمہیں اپنی جان کی ضرورت ہے تو اڑ کر رسول کریم علی کی خدمت میں پہنچ جاؤ کیونکہ جو شخص تائب ہو کر آجاتا ہے آپ مل ہی اسے قتل نہیں کرتے۔اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پناہ لینے کے لئے دور دراز چلے الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۲۱۰،۲۰۹) جاؤ۔یہ روایت جو بیان ہوئی ہے اس سے صاف طور پر دکھائی دیتا ہے کہ یہ بناوٹی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے رسول کریم ملا لیلی نے فتح مکہ کے دن جن لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس میں