اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 300 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 300

300 ۱۳۔کعب بن زہیر کا واقعہ آنحضرت صلیم نے فتح مکہ کے موقعہ پر جن لوگوں کو ان کے سنگین جرائم کے پیش نظر قتل کرنے کا حکم دیا تھا ان میں ایک نام کعب بن زہیر کا بھی ہے۔انکے بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں کسی جگی ان کا نام زہیر بن امیہ لکھا ہے (سیرت حلبیہ ) کسی جگہ ان کا نام کعب بن زہیر بن ابی سلمی ( الصارم السلول ) اور کسی جگہ زہیر بن ابوامیہ بن مغیرہ ( ابن ہشام ) لکھا ہے۔ان کا واقعہ یوں ہے کہ رض ابن اسحاق نے کہا مجھ سے سعید ابن ابو ہند نے بواسطہ ابومرہ عقیل ابن ابی طالب بیان کیا کہ ام ہانی نے بتایا، جب رسول اللہ علیم نے بالائی مکہ میں نزول اجلال فرمایا تو میرے پاس دو آدمی جو میرے دیوروں میں سے تھے ، دوڑتے ہوئے آئے۔یہ دونو آدمی خاندان بنی مخزوم سے تعلق رکھتے تھے اور ام ہانی بہیرہ ابن ابو وہب مخزومی کے زوجیت میں تھیں۔حضرت ام بانی فرماتی ہیں۔پھر میرے بھائی علی ابن ابی طالب گھر میں داخل ہوئے اور کہا ، خدا کی قسم ! میں ان دونوں کو ضرور قتل کروں گا، میں نے انہیں بچانے کے لئے دروازہ بند کر لیا اور رسول کریم ملی ایم کے پاس بالائی مکہ میں پہنچی۔میں نے دیکھا آپ ایک رسلے کے پانی سے جس کو آٹے کے نشان بھی تھے غسل فرمارہے ہیں اور آپ کی صاحبزادی فاطمہ" کپڑے سے پردہ کئے ہوئے ہیں۔آپ مغسل سے فارغ ہوئے تو کپڑا لیا اور پہن لیا۔پھر چاشت کی آٹھ رکعت نماز ادا کی۔اس کے بعد میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا، خوش آمدیدام بانی! کیونکر آنا ہوا؟ میں نے دونوں آدمیوں اور علی کا حال بتایا تو آپ نے فرمایا X قد اجر نا من اجرت و امنا من امنتِ فلا يقتلهما جسے تم نے پناہ ہی اسے ہم نے پناہ دی، جسے تم نے امن دیا اسے ہم نے امن دیا علی انہیں قتل نہ کریں۔