اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 295
295 ۱۱۔آنحضرت سلیم نے فتح مکہ پر جن لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس میں ایک نام حویرث بن نقید کا بھی ہے۔ان کے بارے میں بھی یہی کہا جاتا ہے کہ اسے بھی آنحضرت علیم کی ہجو اور توہین کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا تھا۔اس بارے میں لکھا ہے کہ واقدی نے اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم علیم نے جنگ سے منع کیا دو مگر چھ آدمیوں اور چار عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، ان کے نام یہ ہیں ا۔عکرمہ بن ابو جہل -۲ صبار بن الاسود ۳ ابن ابی سرح ۴ مقیس ب صبا به ۵- حویرث بن نقید ۶۔ابن خطل وہ کہتے ہیں کہ حویرث بن نقید رسول کریم علیم کو ایذا دیا کرتا تھا ، اس لئے آپ ایم نے اس کے خون کو حد د قراردیا ، فتح مکہ والے دن اس نے اپنے گھر کا دروازہ بند رکھا تھا ،حضرت علی اس کے بارے میں پوچھتے ہوئے آئے تو کہا کہ وہ جنگل کو گیا ہے، حویرث کو پتہ چل گیا کہ اسے تلاش کیا جارہا ہے۔حضرت علی اس کے دروازے سے الگ ہوئے تو حویرث گھر 66 سے نکل کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانے لگا، حضرت علی نے اس کی گردن اڑادی۔“ الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۲۰۶) اس روایت کو بھی واقدی کے حوالہ سے ہی بیان کیا گیا ہے۔اور صرف یہ بات لکھ دی ہے که یه شخص رسول کریم عالم کو ایذا دیا کرتا تھا۔کیا ایذا پہنچائی اس کو ذکر تک نہیں کیا گیا۔حالانکہ جو اس کا جرم تھا اس کی یہی سزا ہونی چاہئے تھی اس لئے رسول کریم ہیں ہم نے اس شخص کے لئے یہی سز ا مقررفرمائی۔جیسا کہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت علی کے چا حضرت عباس رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادیوں حضرت فاطمہ اور حضرت ام کلثوم کو مکہ سے مدینہ لیجانے کے لئے روانہ ہوئے۔یہ جس