اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 291
291 ( قاتل) سے اور اگر ( قاتل ) عورت ہو تو اسی ( قاتل ) عورت سے ( بدلہ لیا جائے گا) قرآن کریم کے اس حکم سے ساری بات صاف ہو جاتی ہے کہ ابن خطل کے قتل کا حکم قتل کے بدلے قتل کے طور پر دیا گیا تھانہ کسی اور بنا پر۔یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ابن خطل کا قتل تو بین رسالت کی بنا پر کیا گیا تھا۔کیونکہ قرآن کریم تو بین رسالت کرنے والوں کو اس دنیا میں لوگوں کے ہاتھوں سزاد ینے کا کوئی حکم نہیں دیتا بلکہ ایسے شخص کو سزا دینا اللہ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔جہاں تک ان دو معنی عورتوں کو قتل کرنے کا حکم ہے جو ابن خطل کی لونڈیاں تھیں اور اس کے اشعار پڑھ پڑھ کرلوگوں کو آنحضرت ملا لیلی اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف اُکسایا کرتی تھیں۔ان میں سے ایک کو تو قتل کر دیا گیا لیکن دوسری بھاگ گئی اس کے لئے آنحضرت علیم کی خدمت میں امن کی درخواست کی گئی تو آنحضور ملی ایم نے اسے معاف کرتے ہوئے اسے امان دیدی اس کے بعد وہ مسلمان ہوگئی۔ان ہر دور اشتاؤوں کو قتل کرنے کا حکم بھی ابن خطل کے کارناموں میں شامل ہونے کی بنا پر دیا گیا تھا۔کیونکہ مقولہ مشہور ہے کہ الجلیس کمثلہ کہ جو جس کے ساتھ بیٹھتا ہے وہ بھی ان جیسا ہی ہوتا ہے۔جہاں ابن خطل آنحضرت علی اور آپ کے ماننے والوں کے خلاف سازشیں تیار کرتا اس کی یہ لونڈیاں بھی اس میں برابر کی شریک ہوتی تھیں۔اس کے باوجود جب ان میں سے ایک کے لئے امان طلب کی گئی تو آنحضرت مصلی نے اس کو امان دیدی اگر دوسری کی بھی آنحضرت علی تک رسائی ہو جاتی تو آپ اسے بھی معاف کردید تے کیونکہ آنحضرت علی ایم نے جن لوگوں کے بھی قتل کا حکم دیا تھا ان میں سے جس کے لئے بھی امان طلب کی گئی آپ نے اسے امان دیدی اور جس نے بھی معافی طلب کی آپ مالی نے اسے معاف کر دیا۔اگر اسلام میں تو بین رسالت کی