اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 29 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 29

29 29 الإِسْلامَ دِيداً (المائدة آيت (۴) یعنی۔آج میں نے تمہارے لئے دین مکمل کر دیا ہے اور تم پر اپنے احسان کو پورا کر دیا ہے۔اور تمہارے لئے دین کے طور پر اسلام کو پسند کیا ہے۔تکمیل دین کی بنا پر ہم یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ھدایت کے لئے قیامت تک جن جن احکامات کی ضرورت تھی وہ سب کے سب قرآن کریم میں بیان کر دئے ہیں اسی لئے ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ قرآن کریم میں ہر مسئلہ کا حل موجود ہے اور قیامت تک کے لئے ہمارا را ہنما ہے۔آنحضرت علی کے مبارک دور میں اسلام نے بہت ترقی کی اور دیکھتے ہی دیکھتے اسلام ساری دنیا میں پھیل گیا۔اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلیم نے یہ بھی پیشگوئی فرمائی تھی کہ ایک دور اسلام پر ایسا بھی آنے والا ہے کہ اسلام بہت کمز ور ہو جائے گا اور مسلمان قرآن پر عمل چھوڑ دیں گے۔سو آنحضرت علی کی اس پیشگوئی کے مطابق ایسا ہی وقوع میں آیا۔جہاں ایک طرف دنیا نے بے شمار ترقی کی اس کے ساتھ ہی اسلام کی کمزوری کی حالت کو دیکھتے ہوتے دیگر ادیان والوں نے اسلام پر چوطرفہ حملے شروع کر دئے۔اسلام اور بانی اسلام پر ایسے ایسے بیہودہ الزامات لگائے کہ جن کا اسلام اور بانی اسلام کے ساتھ دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔اگر ایک طرف سے اسلام پر عیسائی حملہ آور تھے تو دوسری طرف آریہ سماج اور برہموں سماج بھی ان سے پیچھے نہ تھا اگر ایک طرف سوامی دیانند نے قرآن اور بانی اسلام کو اپنی کتاب ستیارتھ پر کاش میں نشانہ بنایا تھا تو دوسری طرف پنڈت لیکھرام نے بھی اسی قسم کا بیڑا اٹھارکھا تھا ایک طرف سے فتح مسیح زہر افشانی کر رہا تھا تو دوسری طرف پادری عمادالدین اور پادری سراج الدین اسلام اور آنحضرت علی پر نہایت درجہ غلط انداز میں حملے کر رہے