اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 287 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 287

287 یعنی۔مجھ سے سلمان ابور جاء کے غلام ابی قلابہ سے۔۔کہ عبداللہ بن زید کیا کہتے ہو۔میں نے کہا میں تو یہ جانتا ہوں کہ ہماری شرع یعنی اسلام میں کسی کا خون درست نہیں۔مگر جو محصن ہو کر زنا کرے۔یا کسی کو ناحق مارڈالے یا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے لڑے۔ان احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ شرعی لحاظ سے اسلام میں قتل کی سز ا صرف تین وجوہات کی بنا پر دی جاسکتی ہے۔ایک محصن زانی کو دوسرے اگر کسی نے کسی دوسرے انسان کونا حق قتل کردیا ہو یا اس شخص کو قتل کیا جائے گا جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے نکلے گا۔یہ وہ تین مواقع ہیں جن میں اسلام نے قتل کی سزا مقرر فرمائی ہے۔اس پر آنحضرت علی کا عمل اور سنت بھی ثابت ہے اس کے علاوہ کسی کو بھی کسی دوسرے جرم میں قتل نہیں کیا گیا۔ان احادیث میں ایک صحابی اللہ کی قسم کھا کر یہ بات بیان کر رہے ہیں کہ آنحضرت علی یا لیلی نے صرف تین قسم کے لوگوں کو ہی قتل کروایا اس کے سوا کسی کو آنحضرت لیم کے حکم سے قتل نہیں کیا گیا۔یہ احادیث اور آنحضرت علی ایم کا عمل اس معاملہ کو بالکل صاف کر کے بیان کر رہا ہے کہ اسلام میں تو بہین رسالت کی سز اقتل تو بالکل بھی نہیں ہے۔