اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 277 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 277

277 بن معاویہ دیلی اپنے قبیلہ بنوریل میں آیا جن کا یہ اس وقت قائد تھا مگر بنوبکر کا ہر فرد اس کے تابع فرمان نہ تھا، اس نے اپنے قبیلہ کے لوگوں کولیکر بنوخزاعہ پر شبخون مارا۔جب وہ ویر میں تھے اور ان کا ایک آدمی نرغے میں آ گیا۔جسے پکڑ کر قتل کر دیا۔دوسری طرف قریش نے بنو بکر کو ہتھیار ہم پہنچائے۔نہ صرف یہ بلکہ کچھ قریشیوں نے رات کے وقت ان کے ساتھ ہو کر محفیہ اس قتل و خونریزی میں حصہ بھی لیا ، تا آنکہ بنوخزاعہ کوگھیر کر حرم کی طرف دھکیل دیا جائے۔جب وہ حرم میں پہنچ گئے تو بنو بکر کے لوگوں نے کہا ” نوفل ! ہم تو حرم میں داخل ہو گئے ہیں تم جانو اور تمہارا معبودجانے اس پر نوفل نے کہا یہ بہت بڑی بات ہے۔آج کوئی معبود نہیں ہے۔اے بنو بکر تم اپنا خون بہا وصول کر وہ میری جان کی قسم تم حرم میں چوریاں کرتے ہو تو کیا یہاں اپنا خون بہا وصول نہیں کر سکتے حالانکہ بنو بکر بنوغزاعہ کے ایک آدمی کوجس کا نام منبہ تھا ایک رات و تیر میں شب خون مار کر قتل کر چکے تھے منبہ ایک کمز ور دل آدمی تھا، یہ اپنی قوم کے ایک آدمی کے ساتھ جس کا نام تمیم بن اسد تھا، نکلا اور اس سے کہا: تمیم تم اپنے آپ کو بچاؤ، جہاں تک میرا تعلق ہے میں تو بالکل ایک مرا ہوا آدمی ہوں۔مجھے یا تو قتل کر دیں گے یا چھوڑ دیں گے، میرا دل ٹوٹ چکا ہے۔بہر حال تمیم اسے چھوڑ کر چلا گیا، بنو بکر کے آدمیوں نے منہ کو پکڑا اور قتل کر دیا۔بنوخزاعہ نے مکہ میں پہنچ کر بدیل بن ورقاء اور ان کے مولیٰ رافع کے مکان میں پناہ لی۔“ (سیرت النبی کامل مرتبہ ابن ہشام جلد دوم صفحه ۴۵۹ ۴۶۰) نیز لکھا ہے کہ ابن اسحاق نے کہا * غرض بنی بکر اور قریش نے مل کر بنی خزاعہ پر غلبہ حاصل کرنا چاہا، انہیں جو نقصان پہچانا تھا پہنچالیا اور وہ عہد و میثاق توڑ دیا، جورسول اللہ علیم سے کیا تھا اور اس میں بنی خزاعہ بھی شامل تھے۔آخر عمر و بن سالم خزاعی اور اس کے بعد بنو کعب کا ایک آدمی نکل کر