اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 257 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 257

257 ۴ توہین رسالت کرنے والے کو قتل کرنے کی دلیل کے طور پر ایک حدیث اس طرح سے بیان کی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس سے مروی ہے کہ خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے رسول کریم لم کی ہجو کہی ، آپ علی سلیم نے فرمایا اس عورت سے کون نمٹے گا اس کی قوم میں سے ایک آدمی نے کہا یا رسول اللہ علیہ یہ کام میں انجام دونگا، چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا۔آپ مالم نے فرمایا دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکرائیں ( بحوالہ الکامل لابن عدی (۲۱۵۶/۶) ابن عدی فرماتے ہیں کہ اس حدیث کو وضع کرنے میں محمد بن حجاج متہم ہے۔) سب سے پہلی بات یہ ہے کہ یہ حدیث ہی ایک متہم کی وجہ سے اس لائق نہیں ٹھہرتی کہ اس پر بات کی جائے کیوں کہ اس حدیث کے صحیح ہونے کا کوئی ثبوت نہیں اور پھر قرآنی تعلیم اور احکامات کے بالکل خلاف ہے۔حیرت ہوتی ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بھی اور پیرزادہ شفیق الرحمن شاہ صاحب نے بھی اپنی اپنی کتاب میں اس واقعہ کو پیش کیا ہے علامہ قادری صاحب نے بحوالہ الشفاء ۲ ۱۹۵۲ا سے پیش کیا ہے اور پیرزادہ صاحب نے اپنی کتاب میں بحوالہ مسند شہاب ۴۶۲ اسے پیش کیا ہے۔اس واقعہ کی جو تفصیل امام ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں پیش کی ہے اسی کو ہی پیرزادہ صاحب نے بھی اپنی کتاب میں درج کیا ہے۔اس واقعہ کے بارے میں لکھا ہے کہ واقدی نے بطریق عبد اللہ بن حارث بن فضیل از والد خود روایت کیا ہے کہ عصناء سینت مروان بنو امیہ بن زید کے خاندان سے تھی اور یزید بن زید بن حصن العلمی کی بیوی تھی۔یہ رسولکریم علی کو ایذا دیا کرتی تھی ، اسلام میں عیب نکالتی تھی اور آپ علم کے خلاف