اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 231
231 گالیاں دیا کرتی تھی۔ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے بلاک کر دیا تو آپ بیل یا ہم نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔“ ( سنن ابوداؤد۔رقم الحدیث ۴۳۶۲) سب سے پہلی بات جو اس حدیث کے سلسلہ میں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس حدیث کے نیچے درج ہے کہ ضعیف الاسناؤ کہ اس حدیث کی جوسند ہے وہ ضعیف ہے جو حدیث سند کے لحاظ سے ضعیف ہو اس پر بحث کرنے کا کوئی مقصد ہی دکھائی نہیں دیتا۔اسی طرح اس سے ملتی جلتی ایک اور حدیث بھی اس طرح سے بیان ہوئی ہے کہ اسماعیل بن جعفر نے بطریق اسرائیل از عثمان شیخام از کرمه از ابن عباس سے روایت کیا کہ ایک اندھے شخص کی ام ولد لونڈی تھی جو رسول کریم بیلیم کو گالیاں دیا کرتی تھی وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ایک رات اس نے رسول کریم عالم کو گالیاں دینے کا آغاز کیا۔اس نے بھالا لیکر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبا دیا جس سے وہ بلاک ہو گئی۔صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم علیم سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ میم نے فرمایا میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے کیا جو کچھ کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے“ یہ سن کر اندھا آدمی کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ سبیل نیم کے پاس آیا اور ا بیٹھ گیا اور کانپ رہا تھا۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! اسے میں نے قتل کیا ہے وہ آپ ملی ایم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔میں اسے روکتا اور وہ باز نہ آتی تھی۔میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگروہ پرواہ نہ کرتی۔میں نے بھالا لیکر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبا دیا۔اس کے