اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 222 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 222

222 اور پھر امام احمد بن حنبل اور دوسرے آئمہ حدیث کی زبانی اس کی وجہ بیان کرتے ہیں کہ إذا رَوَيْنَا فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ شَدَحْنَا وَإِذَا رَوَيْداً فِي الْفَضَائِلِ وَأَحْوَهَا تَسَاهَلُنَا (سيرة حلبيه جلدا صفحه ا) یعنی ہمارا اصول یہ ہے کہ جب ہم حلال و حرام کے مسائل کے لئے کوئی روایت بیان کرتے ہیں تو ہم اس کی تحقیق میں بڑی سختی سے کام لیتے ہیں لیکن فضائل اور سیرۃ میں اپنے معیار کو نرم کر دیتے ہیں اور اسی اصول کی مزید تشریح یوں کرتے ہیں کہ الَّذِي ذَهَبَ إِلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ التَّرَخُصُ فِي الرِّقَائِقِ وَمَا لَا حُكْمَ فِيهِ مِنْ الْخَبَارِ الْمَغَازِى وَمَا تخرى مُجْرَى ذَالِكَ وَإِنَّهُ يُقْبَلُ فِي الْحَلَالِ وَالْحَرَامِ لِعَدُمِ تَعَلُّقِ الْأَحْكامِ بِهَا۔(سیر معلبہ جلدا صفحه ۲) یعنی اکثر اہل علم نے یہی طریق رکھا کہ ایسی باتیں جن میں شرعی احکام نہ بیان ہوں جیسے سیرت مغازی وغیرہ ان میں اپنے معیار کو نرم رکھنا چاہئے، کیونکہ ان امور میں ہم ایسی روایتوں کو بھی قبول کر سکتے ہیں جنہیں دینی اور فقہی احکام کے معاملہ میں قبول نہیں کر سکتے۔“ امام احمد بن حنبل نے اس اصول کی تشریح میں ایک لطیف مثال بھی بیان کی ہے؛ چنانچہ فرماتے ہیں ابن إِسْحَاقَ رَجُلٌ نَكْتُبُ عَنْهُ هَذِهِ الْأَحَادِيْتَ يَعْنِي الْمَغَازِي وَأَحْوَهَا وَ إِذَا جَاءَ الْحَلَالُ وَالْحَرامُ أَرَدْنَا قَوْمًا هَكَذَا وَقَبِضَ أَصَابِعَ يَدَيْهِ الْأَرْبَعِ۔(فتح المغیث صفحہ ۱۲۰) یعنی ابن اسحاق صاحب سیرۃ و مغازی بیشک اس رتبہ کے آدمی ہیں کہ ان سے سیرۃ و