اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 199
199 جنگ کرو ہی کیا ہے لیکن ایک جگہ ان معانی سے ہٹ کر اس کی تشریح بیان فرماتے ہیں جس کا کہ اس میں ذکر تک موجود نہیں فرماتے ہیں "جو شخص بھی ہم سے عہد باندھنے کے بعد دین اسلام کو ہدف طعن بنا تا ہے اسے اس سے احتراز کرنا چاہئے، لہذ اور کٹر کا امام ہے اور اس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں، اس لئے اس کو قتل کرنا واجب ہے۔( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحه ۵۹) 66 سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن آیات کو استدلال کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس میں تو ایسا کوئی حکم دکھائی نہیں دیتا ، مذکورہ آیات سے تو یہ امر صاف دکھائی دیتا ہے کہ نقص عہد اور طعن فی الدین کی بنا پر اور رسول کو گھر سے نکالنے کی پاداشت میں ان سے جنگ کا حکم ہے، ہاں جنگ میں کوئی مارا جائے تو بیا الگ بات ہے کیونکہ جنگ کے نتیجہ میں یا تو قص عہد کرنے والے تو بہ کر کے نئے معاہدہ کے ساتھ مسلمانوں کے زیر ہو جائیں گے یا پھر قتل ہو نگے۔لیکن ان آیات کے کسی بھی لفظ سے یہ مفہوم نہیں نکلتا کہ عہد باندھنے کے بعد طعن کرنے والوں کو قتل کر دیا جائے۔ان آیات میں ایسے لوگوں سے جنگ کا حکم دیا گیا ہے ہاں جنگ کے نتیجہ میں وہ قتل کئے جائیں گے۔پھر اسی طرح ایک اور جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ ”ہمارے ہاتھوں عذاب دینے سے مراد قتل ہے، لہذا عہد شکنی کرنے والا اور طعن فی الدین کا ارتکاب کرنے والا قتل کا مستحق ہے، اور ظاہر ہے کہ رسول کریم عالم کو گالی دینے والا اپنے عہد کو توڑ دیتا ہے، جیسا کہ پیچھے گزرا ہے، اس لئے وہ قتل کئے جانے کا مستحق ہے۔“ ( الصارم المسلول علی شاتم الرسول صفحہ ۶۱ ) عرض ہے کہ جن آیات سے استنباط کیا جارہا ہے اس میں تو ایسا کوئی بھی مضمون مذکور نہیں