اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 18
18 قرآن کریم کی تعلیم عدل وانصاف پر مبنی ہے قرآن کریم کی جملہ تعلیمات عدل اور انصاف پر مبنی ہیں اور اسلام اسی بات پر زور دیتا ہے کہ دنیا میں انصاف قائم کیا جائے اور اگر دنیا میں انصاف قائم ہو جائے تو آج کے دور میں پائے جانے والے تمام قسم کے مذہبی اور سیاسی اختلافات کو دور کیا جاسکتا ہے۔اسی بات کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ وَانتَأَى ذِي الْقُرْبى ( النحل آیت (۹) یعنی اللہ یقیناً عدل اور احسان کا اور ( غیر رشتہ داروں کو بھی ) قرابت والے(شخص) کی طرح ( جاننے اور اسی طرح مدد ) دینے کا حکم دیتا ہے اسی طرح فرماتا ہے إنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْآمَنتِ إِلَى أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمُ بَيْنَ النَّاسِ أن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ (النِّساء آیت ۵۹) یعنی اللہ تمہیں یقیناً ( اس بات کا ) حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے مستحقوں کے سپرد کرو۔اور ( یہ کہ) جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل سے فیصلہ کرو۔قرآن کریم نے اسی بات پر بس نہیں کیا بلکہ ہر چھوٹی اور بڑی بات کی وضاحت فرما دی ہے کہ عدل کیا ہوتا ہے فرمایا۔وَ كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ فِيهَا أَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ وَالْعَيْنَ بِالعَيْنِ وَالْأَنْفَ بِالْأَنْفِ وَالْأُذُنَ بِالْأُذُنِ وَالسِّنَّ بِالسِّنِ وَالْجُرُوحَ قِصَاصٌ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كفَّارَ قاله وَمَن لَّمْ يَحْكُمْ بما أنزل الله فأوليك هُمُ الظَّلِمُونَ (المائدة آیت ۴۶)