اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 173
173 جن سے عہد شکنی کا بدلہ لیا جا سکتا ہے۔جزیہ کے بدلہ میں ذمی کی ہر طرح کی حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے اور انہیں پوری طرح سے امان دی جاتی ہے۔یہ امان کسی قسم کی ہوتی تھی اس کا ایک نمونہ میں اس جگہ پیش کر دیتا ہوں اگر چہ معاہدات میں وہاں کے حالات اور علاقہ کی مناسبت سے کچھ کم یا زیادہ شرائط رکھ لی جاتی تھیں۔بیت المقدس کے عیسائیوں کے لئے جو امان نامہ لکھا گیا تھا وہ اس طرح پر ہے۔ی وہ امان نامہ ہے جو امیر المومنین عمرؓ نے ایلیا والوں کو دیا ہے۔ایلیا والوں کی جان۔مال۔گرجے۔صلیب۔بیمار تندرست سب کو امان دی جاتی ہے اور ہر مذہب والے کوامان دی جاتی ہے۔ان گر جاؤں میں سکونت نہ کی جائے گی اور نہ وہ ڈھائے جائیں گے۔یہاں تک کہ ان کے احاطوں کو بھی نقصان نہ پہنچایا جائے گا۔نہ ان کی صلیبیوں اور مالوں میں کمی کی جائے گی۔نہ مذہب کے بارے میں کسی قسم کا کوئی تشدد کیا جائے گا اور نہ ان میں سے کوئی کسی کو ضرر پہنچائے گا۔اور ایلیا میں ان کے ساتھ یہودی نہ رہنے پائیں گے۔اور ایلیا والوں پر فرض ہے کہ جزیہ دیں اور یونانیوں کو نکال دیں پس یونانیوں یعنی رومیوں میں سے جو شہر سے نکل جائے گا اس کے جان و مال کی امان دی جائے گی جب تک کہ وہ محفوظ مقام تک نہ پہنچ جائے۔اگر کوئی رومی ایلیا میں رہنا پسند کرتا ہے۔تو اس کو باقی اہل شہر کی طرح جز یہ ادا کرنا ہوگا۔اور اگر اہل ایلیا میں سے کوئی شخص رومیوں کے ساتھ جانا چاہے تو اس کو امن وامان ہے۔یہاں تک کہ وہ محفوظ مقام تک پہنچ جائیں۔جو کچھ اس عہد نامہ میں درج ہے اس پر خدا اور رسول اور خلفاء اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔بشر طیکہ اہل ایلیا مقررہ جزیہ کی ادائیگی سے انکار نہ کریں۔“ ( بحوالہ تاریخ اسلام جلد اوّل صفحه ۳۵۰ مصنفہ مولانا اکبر نجیب آبادی مطبوعہ تاج پرنٹرز