اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 158 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 158

158 اگر اسلام میں مرتد کی سز اقتل ہوتی جیسا کہ بہت سے علماء کا خیال ہے تو ان کے پہلی مرتبہ ہی ایمان سے پھر جانے کے بعد ان کے قتل کا حکم دیا جا تا کجا یہ کہ وہ پھر ایمان لاتے اور پھر انکار کرتے اور پھر کفر میں وہ آگے سے آگے ہی بڑھتے جاتے۔دو دومرتبہ ارتداد کرنے کے باوجود قرآن کسی مرتد کے قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا۔اس سے بڑھ کر اور کون سی قرآن کی تعلیم پیش کی جا سکتی ہے جو یہ ثابت کرے کہ اسلام میں مرتد کی سز اقتل نہیں ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ سورۃ آل عمران میں فرماتا ہے كَيْفَ يَهْدِ اللهُ قَوماً كَفَرُوا بَعْدَ المَانِهِمْ وَشَهِدُوا أَنَّ الرَّسُوْلَ حَقٌّ وَ جَاءَ هُمُ الْبَيَّنتُ، وَاللهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الظَّلِمِينَ أُولَئِكَ جَزَاءُهُمْ أَنَّ عَلَيْهِمْ لَعْنَتُ اللهِ وَالْمَلَئِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ خَلِدِينَ فِيهَا لَا يُخَفَّفُ ج عَنْهُمُ الْعَذَابُ وَلَا هُمْ يُنظَرُونَ إِلَّا الَّذِينَ تَابَوَا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ وإِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بَعْدَ ايْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوا كُفَرَ الَّنِ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ وَأُولَئِكَ هُمُ الضَّالُونَ إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَمَاتُوْا وَهُمْ كُفَّارٌ فَلَن يُقْبَلَ مِنْ أَحَدِهِمْ قِلْ الْأَرْضِ ذَهَباً وَ لَوِ افْتَدَى بِهِ ، أُولَئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيم وَمَالَهُمْ من نهرینه (ال عمران آیت ۸۷ تا ۹۲ ) یعنی۔جولوگ ایمان لانے کے بعد ( پھر ) منکر ہو گئے ہوں اور شہادت دے چکے ہوں کہ ( یہ ) رسول سچا ہے اور (نیز) ان کے پاس دلائل بھی آچکے ہوں انہیں اللہ کس طرح ہدایت پر لائے۔اور اللہ ( تو ) ظالم (لوگوں) کو ہدایت نہیں دیتا۔یہ لوگ ایسے ہیں کہ ان کی سزا یہ ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں ( کی ) اور لوگوں ( کی) سب ہی کی لعنت ہو۔وہ اس ( لعنت ) میں رہیں گے نہ ( تو ) ان ( پر) سے عذاب ہلکا کیا جائے گا اور نہ انہیں ڈھیل دی جائے گی۔سوائے