اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 157
157 تھے اور نہ ہی اس پر عمل کر سکتے تھے۔اسی پر بات ختم نہیں ہو جاتی بلکہ ان کے بار بار ایمان لانے اور انکار کرنے کا ذکر ایک اور جگہ بھی آیا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ امَنُوا ثُمَّ كَفَرُوْا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرَ أَلَّمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمُ سَبِيلاه ( النساء آیت ۱۳۸) یعنی۔اور جولوگ ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا پھر ایمان لائے پھر انکار کر دیا۔پھر کفر میں اور ( بھی ) بڑھ گئے۔اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کر سکتا اور نہ انہیں ( نجات ) کا کوئی راستہ دکھاتا ہے۔قرآن کریم کی بات کس قدر صاف اور واضح ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ نے یہ فرما دیا کہ ہم نے ھدایت اور گمراہی کو الگ الگ کر کے دکھا دیا اور پھر یہ بات بھی بیان کر دی کہ چاہے تو ایمان لے آؤ اور چاہے انکار کر دو اور تیسری بات یہ بیان کردی کہ دین کے بارے میں کوئی جبر نہیں ہے۔اس پر بات کو بالکل ہی صاف کر کے عملی صورت بیان کر دی کہ وہ لوگ جو ایمان لائے پھر انہوں نے انکار کر دیا پھر وہ ایمان لے آئے اور پھر انہوں نے انکار کر دیا پھر وہ کفر میں آگے سے آگے بڑھتے ہی چلے گئے ایسے لوگوں کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں ان کے انکار اور ارتداد کی وجہ سے کوئی سزا مقرر نہیں کی۔بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سزاد بینا اپنے پر رکھ لیا ہے کہ ایسے لوگ جن کے بار بار ایمان لانے اور انکار کرنے کے بعد اور کفر میں بہت آگے نکل جانے کے بعد جبکہ ان کے دوبارہ ایمان لانے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی تو اللہ نے ان کے لئے یہ فیصلہ فرمایا کہ اب انکو ان کے حال پر چھوڑ دو یہ میرا تو کچھ نقصان نہیں کر سکتے لیکن میں انکو ان کی حرکتوں کی بنا پر بخشوں گا نہیں اور نہ ہی اپنی سزا سے بھاگنے کا ان کو کوئی راستہ ہی دکھاؤں گا۔