اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا

by Other Authors

Page 151 of 415

اسلام میں توہین رسالت ؐ کرنے والے کی سزا — Page 151

151 کہلائے گا؟ سو جاننا چاہئے کہ اسلام میں داخل ہونے کے لئے کلمہ توحید کا اعلان کرنا شرط ہے اس کے ساتھ باقی کے ارکان اسلام کی پابندی شرط ہے جس میں نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج فرائض میں شامل ہیں اگر ایک انسان ان پر عامل ہے تو اس کو مرتد کہنا بالکل غلط ہے۔کیونکہ کسی کے کہنے سے کوئی شخص مرتد نہیں کہلا سکتا۔مرتد وی کہلائے گا جو اپنے ارتداد کا خود اعلان کرے۔جس طرح کوئی انسان کسی دوسرے کے مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ خود اسلام لا کر اس کا اعلان نہ کرے اسی طرح کسی مسلمان کے ارتداد کا بھی کوئی اعلان کرنے کا حق نہیں رکھتا جب تک کہ وہ خود سے اس دین سے ارتداد کا اعلان نہ کرے۔جس طرح اسلام لانے پر مسلمان ہونے کا اعلان کرنا ایک ذاتی فعل ہے اسی طرح کسی مسلمان کو مرتد نہیں کہا جا سکتا جب تک وہ خودارتداد کا اعلان نہ کرے۔کیونکہ یہ ہر دو فعل اس کے ذاتی ہیں، نہ تو کسی کوز ورز بر دستی سے مسلمان بنایا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی کوز بر دستی مرتد بنایا جاسکتا ہے۔مرتد کے لئے لازمی ہے کہ وہ اپنے ارتداد کا خود اعلان کرے جس طرح اس نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کیا تھا۔کسی عالم کا یہ اختیار نہیں کہ وہ کسی کی مرضی کے خلاف کسی کے مسلمان ہونے یا مرتد ہونے کا اعلان کرتا پھرے۔اور قرآن کریم بھی ہمیں یہی تعلیم دیتا ہے۔قرآن کریم کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ ہم نے ھدایت اور گمراہی کو الگ الگ کر کے دکھا دیا ہے جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کر دے کیونکہ یہ اس کا بالکل ذاتی عمل ہے کسی دوسرے کو اس میں دخل کا اختیار نہیں۔جیسا کہ فرماتا ہے لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّيْنِ قَد تَّبَيَّنَ الرُّشْدُ مِنَ الْغَيِّ (البقره آیت ۲۵۷) وَ قلِ الْحَقُّ مِن رَّبِّكُمْ۔فَمَن شَاءَ فَلْيُؤْمِن وَ مَنْ شَاءَ فَلْيَكْفُرْ (الكيف آیت (۳۰)